اختر مینگل کی وڈھ واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل جمعرات کو کوئی ڈیڑھ سال بعد بلوچستان کے شہر خضدار میں اپنے آبائی گاوں وڈھ پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ہے۔ وڈھ اور خضدار کے درمیان بڑی تعداد میں لوگ ان کے استبقال کے لیے موجود تھے جبکہ ان کے قافلے میں سینکڑوں گاڑیاں شامل تھیں۔ استقبال اور قافلے میں موجود افراد مسلسل نعرہ بازی کرتے رہے۔ استقبال کے راستے کو بی این پی کے پرچموں سے سجایا گیا تھا اور کارکنوں نے سردار عطاءاللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔ وڈھ میں رات دیر سے جلسہ گاہ پہنچے تو لوگوں نے ان کے حق مں نعرے لگائے اور ان پر پھول نچھاور کیے گئے۔ سردار اختر مینگل نے وڈھ سے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بااختیار حکمرانوں کی نیت پر اب بھی شک ہے اور جمہوری طریقے سے اقتدار میں آنے والوں کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو اتنے گہرے زخم دیے گئے ہیں کہ صرف چند افراد کی رہائی یا بازیابی سے مسائل حل نہیں ہو سکتے اس کے لیے نیک نیت ہونا ضروری ہے۔ سردار اختر مینگل کے مطابق جن لوگوں کے پاس اختیار ہے انھیں ان پر شک ہے اور جو جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آئے ہیں ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں حق حاکمیت کے لیے ان کی جدو جہد جاری رہے گی اور اس کے لیے ان کی کوششیں جاری رہیں گی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے کیونکہ جو لوگ پہاڑوں پر گئے ہیں وہ خوشی سے نہیں گئے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے ماحول بنائے۔ فوجی آپریشن اب بھی جاری ہے پہلے سے لوگ گرفتار اور غائب تھے اور مزید کو غائب کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں تو ایسے حالات میں مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیر اعلی کو دو ہفتے پہلے موجودہ حکومت کے کوششوں سے رہا کر دیا گیا تھا جس کے بعد اب انھوں نے بلوچستان میں جلسوں سے خطاب کرنا شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے حب اور بیلہ میں جلسوں سے خطاب کیا ہے۔ سردار اختر مینگل کو نومبر دو ہزار چھ میں اس وقت نظر بند کر دیا گیا تھا جب انھوں نے لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ کی قیادت کرنا تھی۔ اس کے بعد ان پر کراچی میں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو اغوا اور تشدد کرنے کا مقدمہ درج کر کے باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سردار اختر مینگل کے مطابق کچھ لوگ ان کے بچوں ک پیچھا کر رہے تھے جنھیں ان کے بندوں نے پکڑا تھا، اور جس کے بعد اغوا کا یہ مقدمہ ان پر کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں ’میری رہائی بہتری کا معیار نہیں‘16 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی پر خوشیاں09 May, 2008 | پاکستان ’بگٹی قتل تفتیش بھی یو این سے‘09 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی کا حکم02 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل ہسپتال میں داخل08 March, 2008 | پاکستان ’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘05 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||