ثناء اللہ بلوچ کا استعفے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان جمعہ کو سینیٹ کی کارروائی کے دوران کیا اور اپنا استعفیٰ چئرمین سینیٹ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنی جماعت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے مستعفی ہورہا ہوں‘۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے سن دو ہزار چھ میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور وسیع تر صوبائی حقوق نہ ملنے کے خلاف سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ سینیٹر ثناء اللہ بلوچ کے مطابق جب ان کے ساتھیوں نے استعفے دیے تو اس وقت وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں سے اپنی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر بیرون ملک میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ چئرمین سینیٹ کو بھیجا تھا لیکن وہ قبول نہیں کیا گیا، جس کا مقصد ان کی جماعت میں غلط فہمی پیدا کرنا تھا۔ لیکن بعد میں جب حالات بدلے تو ثناء اللہ بلوچ پاکستان واپس لوٹے اور جمعہ کو اپنی جماعت کے فیصلے کے تحت اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کا ان پر دباؤ ہے کہ پارلیمانی سیاست سے صوبے کے حقوق حاصل کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے مستعفی ہونے سے قبل ایوان بالا میں اپنی آخری تقریر بھی اپنے روایتی گھن گرج والے انداز میں کی اور کہا کہ پاکستان میں کبھی بلوچستان کو برابر کی اکائی نہیں سمجھا گیا اور سوتیلے بھائیوں جیسا سلوک کیا گیا۔ ثناء بلوچ نے کہا کہ انہوں نے کبھی پاکستان توڑنے کی بات نہیں کی بلکہ اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ان کے مطابق جب بھی انہوں نے حقوق کی بات کی تو انہیں کبھی انڈیا کا ایجنٹ کہا گیا تو کبھی کسی اور کا۔
سینتیس سالہ ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ بندوق سے پیار نہیں بڑھتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو فوجی چھاؤنیوں کی نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے اور اگر آج بھی فوجی چھاؤنیوں کو یونیوسٹی میں تبدیل کریں تو وہ خود وہاں پڑھانے کو ترجیح دیں گے۔ دس سالہ پارلیمانی سیاست کا تجربہ رکھنے والے ثناء بلوچ نے کہا حکومت فوجی آپریشن سے ڈھائی لاکھ بے گھر ہونے والے بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھے اور سن دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک گوادر میں زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کر دے۔ ثناء اللہ بلوچ کی تقریر ختم ہونے کے بعد پورا ایوان افسردہ نظر آیا جس کا اظہار حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے ثناء اللہ بلوچ کو اپنا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے بھی کیا۔ قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ جب بلوچستان نیشنل پارٹی نے پارلیمان سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری تھا، صدر مشرف کی آمریت کی بربریت قائم تھی۔ لیکن ان کے بقول اب حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ایسے میں انہیں مستعفی نہیں ہونا چاہیے۔ رضا ربانی نے کہا کہ ’اٹھارہ فوری کے انتخابات میں پاکستانی عوام نے فیصلہ دیا ہے کہ مشرف نہ کھپے۔۔ مشرف نہ کھپے،۔ یعنی مشرف نہیں چاہیے۔ انہوں چئرمین سینیٹ سے کہا کہ وہ ثناء کا استعفیٰ فی الحال منظور نہ کریں۔ صدر مشرف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق) کے جنرل سیکریٹری سید مشاہد حسین نے بھی بلوچستان کی حق تلفی کا اقرار کیا اور کہا کہ وہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پوری قوم کو بلوچوں سے معافی مانگنی چاہیے بلکہ بنگلادیش سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔‘ مشاہد حسین نے بتایا کہ چوہدری شجاعت حسین اور انہوں نے بات چیت کے ذریعے بگٹی کے نجی مسلح محافظوں اور پاکستان فوج میں صلح کرا دی تھی لیکن بعض سخت موقف رکھنے والے خاکی وردی والوں نے بات نہیں مانی۔ مسلم لیگ (ق) کی بلوچستان سے منتخب سینٹر کلثوم پروین نے ثناء اللہ بلوچ کو بُلبلِ بلوچستان قرار دیتے ہوئے کہا ’میں تمہاری بڑی بہن ہونے کے ناطے کہتی ہوں کہ استعفیٰ واپس لے لو۔ ہم آپ کی چہچہاتی تقاریر سے محروم ہوجائیں گے۔‘ صدر مشرف کی حامی مسلم لیگ (ق) کی پری گل آغا، ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی، جمیعت علما اسلام (ف) کے اسماعیل بلیدی اور کامران مرتضیٰ، عوامی نیشنل پارٹی کے الیاس بلور، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندوخیل اور جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید سمیت ایوان میں نمائندگی رکھنے والی اکثر جماعتوں کے نمائندوں نے بلوچستان میں مظالم کی مذمت کی اور ثناء اللہ کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ وہ استعفیٰ واپس لیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک نے چئرمین سینیٹ سے کہا کہ وہ ایک ہفتے تک ثناء اللہ بلوچ کا استعفیٰ قبول نہ کریں اور وہ اس دوران سردار اختر مینگل سے بات کرکے ثناء اللہ کو واپس ایوان میں لائیں گے۔ | اسی بارے میں گوادر بندرگاہ کے کنٹرول پر تنازع02 June, 2008 | پاکستان ’بگٹی قتل تفتیش بھی یو این سے‘09 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی پر خوشیاں09 May, 2008 | پاکستان کوئٹہ: کابینہ کی تشکیل میں مشکل18 April, 2008 | پاکستان ’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘05 March, 2008 | پاکستان بلوچستان: کئی علاقوں میں ہڑتال04 March, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||