لاہور، کراچی میں وکلاء کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج ملک بھر کے شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بار ایسوسی ایشنوں میں ہونے والے اجلاسوں کے بعد احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے۔ لاہور سے بی بی سی کے نماہ نگار عباد الحق نے بتایا کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ۔لاہور کی ضلعی بارایسوسی ایشن اور ہائی کورٹ بار کے اجلاسوں کے بعد وکلا نے جلوس نکالا جو ایوان عدل سے شروع ہوکر پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوگیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس سے صوبائی وزیر مجتبیْ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی لاہور آمد پر ان کو پنجاب حکومت چیف جسٹس کا پروٹوکول دے گی۔ان کے بقول وکلاء کے لانگ مارچ میں ان کی جماعت مسلم لیگ نون بھر پور حصہ لے گی۔ وکلاءکےجلوس میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سوسائٹی کےارکان بھی شامل ہوئے۔ جلوس میں شامل افراد نے ’گو مشرف گو‘ اور ’عدلیہ کی بحالی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگائے۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے خطاب میں کہا کہ صدر پرویزمشرف کے اقتدار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں اور صدر مشرف کو ملک سے بھاگنے نہیں دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدرپرویز مشرف اور پی سی او ججوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ وکیل اپنے رہنماؤں کے خطاب کے بعد پُرامن طور پر منشتر ہوگئے۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں وکلا نے ہڑتال کر کے احتجاج میں حصہ لیا۔ کراچی میں احتجاج، منیر اے ملک کا خطاب کراچی سے بی بی سی کے ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ کراچی میں وکلاء نے ہائی کورٹ بار سے پریس کلب تک ریلی نکالی، جس میں وکلاء کے علاوہ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاسبان کے کارکن اور رہنما شریک تھے۔ یہ لوگ حکومت اور خاص طور پر صدر مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ ریلی سے قبل سندھ ہائی کورٹ بار میں وکلاء کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے وکلاء رہنما منیر ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ موقع پرست قوتوں کو موقع فراہم کیا جائے، اور جو قوتیں ہمیشہ ایسے موقع کے انتظار میں رہتی ہیں کہ حالات سازگار ہوں تو وہ مداخلت کریں، ان کے مطابق وکلاء تحریک کا مقصد ان قوتوں کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردینا ہے۔ منیر ملک نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی کے وقت کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ دس مارچ دو ہزار سات کو جب سپریم جوڈیشل کاؤنسل کا اجلاس ہونے جا رہا تھا اس کے وقت قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کیا تھا، ہاتھ ملایا تھا اور آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ ’ مجھ پر اعتماد کرو۔‘ منیر ملک کے مطابق انہوں نے جسٹس جاوید اقبال کو جواب دیا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں اس پر نہیں بلکہ اس پر عمل کریں گے تب ہی اعتبار کر سکوو ں گا۔ ’موجودہ سیاسی قیادت بھی کہتی ہے ہم پر اعتبار کرو، ججز بحال ہوں گے اور یہ ان کی اولیت میں شامل ہے۔ مگر ہم انہیں بھی یہ کہتے ہیں آپ جو کہہ رہے ہیں اس پر نہیں، آپ کچھ کریں گے تو اس پر اعتبار کریں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ’جسٹس جاوید اقبال اور ان کے رفقاء کو یہ پیغام پہنچانا ضروری تھا اور آج کی سیاسی قیادت کو بھی پیغام پہنچانا ضروری ہے۔‘ منیر ملک کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا مقصد تھا عوام کے ذہن کو بدلنا اور دوسرا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے ذہنوں کو۔ ان کے مطابق وکلاء تحریک نےعوام کی عدالت کے ذریعے ملک کی عدالت کے ذہن کو بدلا اور اس لیے جو تیسرا مقصد تھا کہ ریفرنس کا خاتمہ ہوا، اس پر پھر عمل ہوا۔ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ آج کے حالات میں دوبارہ عوام کی عدالت میں جانا ضروری ہے ’اُس تحریک اور اِس تحریک میں فرق یہ ہے کہ اس وقت عوام کی طاقت استعمال کر کے عدلیہ کو ہم نے یہ پیغام دیا کہ اگر آپ کھڑے ہوجائیں اور ایک درست رخ اختیار کریں تو عوام آپ کے ساتھ ہے۔‘ منیر ملک کا کہنا تھا کہ اب ’عدالت کے بجائے پارلیمنٹ کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر آپ نے کوئی غلط چیز کی تو عوام آپ کا احتساب کرے گی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی سے نہ وکلاء کی پریکٹس چمکے گی اور نہ ہی اس ملک میں عدالتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا انہیں اندازہ ہے کہ یہ عدالتی اصلاحات کے لیے وکلاء کی جدوجہد کا دوسرا مرحلہ ہوسکتا ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل یا تنظیم کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی مُدت ملازمت میں کمی منظور نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ آئینی پیکیج میں اگر عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو وکلاء اسی قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کریں گے۔ |
اسی بارے میں تمام جج بحال کرنا چاہتے ہیں: زرداری28 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ17 May, 2008 | پاکستان پاکستان: وکلاء کی ہفتہ وار ہڑتال15 May, 2008 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ 08 May, 2008 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ بار کا احتجاج17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||