BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 May, 2008, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شاید بتا دوں کہ اعتراف کیوں کیا‘
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
’ایک آدمی کے اعتراف سے پورے ملک کا فائدہ تھا: ڈاکٹر اے کیو خان

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ایٹمی سائنس دان نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے اعتراف سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو رہا تھا۔

ڈاکٹر قدیر خان نے اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کرنے کے لیے ماضی اور حال میں مختلف سیاست دانوں اور سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا حوالہ دیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا اعتراف کیوں کیا تھا تو ڈاکٹر قدیر خان کا کہنا تھا: ’جنرل (ریٹائرڈ) اسلم بیگ چار پانچ سال تک اس (جوہری) پروگرام کے نگران تھے۔ ان سے زیادہ مستند بات کس کی ہو سکتی ہے۔ ان کا انٹرویو سن لیں آپ کو علم ہو جائے گا کہ میں نے اعتراف کیوں کیا تھا۔ بیگ صاحب نے کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر پر الزام جھوٹا تھا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔‘

جب ڈاکٹر قدیر خان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ان پر جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ’الزامات‘ کیوں لگائے گئے تو ڈاکٹر قدیر کا جواب تھا: ’ایک آدمی پر ڈال دیں تو ملک بچ جاتا ہے۔ بات ملک پر سے ہٹ جاتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’دھیرے دھیرے یہ چیزیں کھل رہی ہیں۔ جب وقت آئے گا تو شاید میں بھی بتا دوں (کہ میں نے اعتراف کیوں کیا تھا)۔‘

انہوں نے کہا کہ چودہری شجاعت، مشاہد حسین اور ایس ایم ظفر یہ کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ ’ان کی کوئی غلطی نہیں تھی اور انہوں نے ملک بچانے کے لیے یہ چیزیں قبول کی تھیں۔‘

اسلم بیگ سے پوچھ لیں
 اسلم بیگ چار پانچ سال تک اس (جوہری) پروگرام کے نگران تھے۔ ان سے زیادہ مستند بات کس کی ہو سکتی ہے۔ ان کا انٹرویو سن لیں آپ کو علم ہو جائے گا کہ میں نے اعتراف کیوں کیا تھا۔ بیگ صاحب نے کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر پر الزام جھوٹا تھا اور ان پر دباؤ ڈالا گیا۔‘

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کی تردید کی کہ وہ آزاد ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف بات کرنے کی اجازت ہے۔

’بات کرنے اور آزادی میں بہت فرق ہے۔ آزادی کے معانی ہیں کہ میں گھر سے باہر جاسکوں، لوگوں سے ملوں لیکن ایسا نہیں ہے۔ اور یہ (بات کرنے کی آزادی) کوئی بڑی آزادی نہیں۔ کیا ہم کوئی سرکاری راز کھول رہے ہیں کہ ہمیں باہر نہیں جانے دیا جا رہے۔ ہمیں تو دعا سلام ہی کرنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ ’غلط بیانی‘ کی گئی کہ ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی کا تعلق وزارتِ داخلہ سے ہے۔ تاہم ڈاکٹر اے کیو خان نے سوال کیا: ’اگر میری نظر بندی کا تعلق فوج کے بجائے وزارتِ داخلہ سے ہے تو پھر میرے گھر کے باہر فوج کے گارڈز کیوں کھڑے ہیں‘۔

گھر کے باہر فوج کے گارڈز کیوں ہیں
 ’اگر میری نظر بندی کا تعلق فوج کے بجائے وزارتِ داخلہ سے ہے تو پھر میرے گھر کے باہر فوج کے گارڈز کیوں کھڑے ہیں‘۔
ڈاکٹر قدیر خان

جب ان کی توجہ آصف زرداری کے بیان کی طرف مبذول کرائی گئی کہ ڈاکٹر قدیر کو گزشتہ حکومت نے ملزم ٹھہرایا تھا اور موجودہ حکومت انہیں رہا نہیں کر سکتی تو انہوں نے کہا: ’اگر اس طرح ہوتا رہے تو نہ کوئی جیل سے باہر نکلے، نہ کسی کی ترقی ہو اور نہ کوئی ریٹائر ہو۔ حکومتِ وقت پر تمام ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔‘

اس سوال پر کہ نظر بندی کے چار سال کیسے گذرے، ڈاکٹر قدیر نے کہا: ’یہ نہ سمجھیں کہ رو رو کے گزار رہا ہوں۔ میں بہت پر ہمت ہوں۔ میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ وہ کتابیں جو مصروفیت کے باعث نہیں پڑھ سکتا تھا وہ بھی پڑھیں۔ وقت کی کمی کا احساس ہوا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد