BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 21:03 GMT 02:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگل کی رہائی: تاخیر پر مظاہرے

اختر مینگل
سرادار عطا اللہ مینگل کا کہنا ہے کہ حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے
سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل کی رہائی میں تاخیر پر جمعرات کو کوئٹہ، خضدار، حب شہر، آواران وڈھ اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں شام کے وقت سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

مظاہرین نےکوئٹہ میں سریاب روڈ خضدار میں عوامی ہوٹل کے پاس اور حب میں آر سی ڈی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ وڈھ آواران اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کے گئے۔

کراچی میں لیاقت نیشنل ہسپتال میں موجود سردار اختر مینگل کی رہائی کے حوالے سے خبریں دو روز سے مختلف چینلز پر آرہی ہیں اور جمعرات کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں ہسپتال کے باہر موجود تھے جہاں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ انھیں رہا کر دیا جائے گا۔

سردار اختر مینگل لیاقت نیشنل ہسپتال کے نیوروسرجری وارڈ میں ہیں جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

اس بارے سردار عطاء اللہ مینگل سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ حکومت سارے معاملے میں بے اختیار نظر آ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے احکامات کے باوجود اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ایجنسیوں کے وہ دو اہلکار جنھوں نے مقدمہ درج کرایا تھا وہ نہیں مان رہے تو پھر اس سے بڑھ کر بھونڈا بہانہ کیا ہو سکتا ہے‘۔

سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا کہ اب بھی سب کچھ فوج اور ایجنسیوں کے پاس ہے اور جب وہ چاہیں گے تو عمل ہوگا۔

یاد رہے سردار اختر مینگل کی رہائی کے احکامات وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک ہفتہ پہلے کوئٹہ کے دورے کے دوران جاری کیے تھے اور گزشتہ دو روز سے یہ کہا جا رہا ہے کہ محکمہ داخلہ نے ان کے رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور انھیں کسی بھی وقت رہا کیا جا سکتا ہے لیکن اب تک انھیں رہا نہیں کیا گیا ہے۔

سردار اختر مینگل گزشتہ ڈیڑھ سال سے گرفتار ہیں۔ انھیں نومبر دو ہزار چھ میں حب میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب بی این پی نے لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ شروع کرنا تھا۔

اس کے بعد اپریل میں ان پر سرکاری اہلکاروں کے اغوا اور ان پر تشدد کا مقدمہ درج کرکے کراچی میں باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد بلوچستان میں ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے لیے گئے ہیں جبکہ وزر اعظم نے دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت میں بھی ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد