شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان مذاکرات میں طے پایا تھا کہ ججوں کی بحالی قرار داد کے ذریعے ہو گی |
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دبئی مذاکرات میثاقِ جمہوریت اور اعلانِ مری کا تسلسل تھے۔ جمیعت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ججوں کی بحالی سے متعلق مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے بیان سے حرف بہ حرف متفق ہیں۔ انہوں نے کہا دبئی مذاکرات میں یہ طے پایا تھا کہ دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی ججوں کی بحالی سے متعلق امور پر اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔ مسٹر آصف علی زرداری نے کہا کہ اعلانِ مری میں کہا گیا تھا کہ معزول ججوں کی بحالی کے وقت موجودہ ججوں کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے لیکن قومی مفاد کی خاطر متحدہ قومی موومنٹ کو صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کوئی بھی ججوں سے لڑائی نہیں چاہتا لیکن ججوں کی بحالی سے متعلق ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی سے متعلق قرار داد جب قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی تو وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ دوسری طرف ججوں کی بحالی سے متعلق قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس سنیچر کے روز اسلام آباد میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک، مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف، سینئر وزیر چودھری نثار علی خان اور وفاقی وزیر خواجہ آصف نے شرکت کی۔ میڈیا کو اس اجلاس سے دور رکھا گیا۔ کمیٹی کا اگلا اجلاس پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پیر کے روز ہو گا۔ |