سابق دورمیں کی گئی نجکاری کاآڈٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں جمعہ کو مسلم لیگ (ق) کی سابق حکومت کے دور میں مبینہ مالی بےقاعدگیوں کے معاملات اٹھتے رہے اور وزراء انہیں تفصیلی غور کے لیے ایوان کی قائمہ کمیٹوں کے حوالے کرتے رہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ سال دو ہزار تین سے آٹھ تک چھتیس یونٹوں کی نجکاری ہوئی جس کا موجودہ حکومت تفصیلی آڈٹ کروا رہی ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کا سن دو ہزار پانچ میں پیش آنے والا سات سو ارب ڈالر کے سکینڈل کا معاملہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اصرار پر سپیکر فہمیدہ مرزا نے ایوان کی فنانس کمیٹی کو تفصیلی غور کے لیے بھیج دیا۔ دوسری جانب وزیر تعلیم احسن اقبال نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو تجارتی خسارے میں اضافے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ایوان کی کمیٹی کے سامنے طلب کرنے کی تجویز دی۔ احسن اقبال کا تاہم کہنا تھا کہ شوکت عزیز سے بہتر ہوگا کہ صدر پرویز مشرف کا احتساب کیا جائے کیونکہ اکثر اجلاسوں میں فیصلوں کے وقت وہ ساتھ موجود ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ شوکت عزیز کی حیثیت سابق حکومت میں بقول ان کے ایک سینئر جائنٹ سیکرٹری سے زیادہ نہیں تھی۔ گندم کے معاملے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ سابق حکومت نے دو سو ڈالر فی میٹرک ٹن گندم برآمد کرکے پانچ سو ڈالر فی ٹن کی قیمت پردرآمد کی ہے۔ وقفہ سوالات میں انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت کی گندم سے متعلق غلط پالیسی کے باعث ملک کو چوالیس ارب نوے کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
غیرملکی قرضوں کے بارے میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ انیس سو ننانوے میں جو کچکول توڑنے کی بات کی گئی تھی اس کی جگہ نیا میگا کچکول تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ملک پر پانچ ہزار سات سو ارب روپے کے قرضے ہیں جن کی ایک بڑی وجہ ماضی میں غیرترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ مارچ دو ہزار پانچ میں کراچی سٹاک ایکسچینج میں یکایک گیارہ ارب ڈالر کی گراوٹ کی مختلف مواقع اور اداروں نے تفتیش کی۔ اس بابت ایک امریکی فرم کی بنائی گئی مدلل تفتیشی رپورٹ اکیس نومبر دو ہزار چھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے اہم نتیجے سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں بعض شعبوں میں بروکروں کی ایک نمایاں تعداد کی جانب سے ممکنہ غلط کاریوں کے بظاہر شواہد ملے تاہم ان کی رائے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر امکانی غلط اقدامات کی وجہ سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کسی تفصیلی سکیم کا حصہ نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ آیا پچھلی کمیٹی نے یہ رپورٹ ایوان کے سامنے رکھی یا نہیں۔ اسحاق ڈّار کا موقف تھا کہ اس سکینڈل سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت چھوٹے سرمایہ کاروں کی تھی۔ ایک رکن ایاز صادق کی اس معاملے کو فنانس کمیٹی کے حوالے کرنے کی تجویز کی وزیر خزانہ نے مخالفت نہیں کی لہذا اسے سپیکر نے کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ میاں عبدالستار کے ایک سوال کے جواب میں کہ صدر پرویز مشرف کے انیس سو ننانوے سے دو ہزار آٹھ تک کے دورے میں بینکوں کے کل کتنے قرضے معاف ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ سٹیٹ بنک نے مطلوبہ معلومات مختلف بنکوں میں بکھری ہوئی ہیں جو نو سال پر محیط ہے اور ایسے ادھار لینے والوں کی تعداد کافی بڑی ہے لہذا اس نے یہ معلومات اکٹھی کرنے کے لیے تیس روز کی مہلت طلب کی ہے۔ مسلم لیگ نون کے رکن برجیس طاہر کے سوال کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ اب تک قومی احتساب بیورو نے انیس سو ننانوے سے لے کر دو ہزار آٹھ تک پانچ ہزار دو سو اٹھاسی افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت کارروائی شروع کی لیکن ان میں سے محض آٹھ سو تیرہ افراد کو سزائیں دی گئیں۔
ایوان کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق جن کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں زیادہ تعداد سرکاری اہلکاروں، تاجروں اور سیاستدانوں کی ہے تاہم چند فوجی افسران بھی اس میں شامل ہیں۔ سزا یافتہ افراد میں سے تقریباً نصف یعنی چار سو رقوم جمع کرانے کے بعد چھوڑ دیے گئے جبکہ اتنی ہی تعداد گرفتار ہے۔ جن کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں اہم ترین موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، بلوچستان کے چنگیز خان مری، حیربیار مری، سردار یعقوب ناصر، طارق محمود خان کھیتران اور اسماعیل بلیدی، نون لیگ کے سید ظفر علی شاہ، رائے منصب علی، پیپلز پارٹی کی ناہید خان اور سردار عاطف علی سنجرانی شامل ہیں۔ فوجی افسروں میں لیفٹنٹ جرنل (ر) افضل خان، جوکہ سٹیل مل کے سابق سربراہ تھے، لیفٹنٹ کرنل مقبول حسین، برگیڈئر راشد، میجرل جنرل (ر) حنیف منہاس اور ریئر ایڈمرل اکبر حسن خان شامل ہیں۔ ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں چھٹی مردم و خانہ شماری اس سال اکتوبر میں منعقد کی جائے گی۔ اس بابت شماریاتی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں کھاد کی قیمتوں پر اضافے کی بھی بات ہوئی۔ وزارت خوراک کا اضافی چارج رکھنے والے چوہدری نثار نے تصدیق کی کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں کھاد کی ستر فیصد ضروریات درآمد کر کے پوری کی جاتی ہے تاہم حکومت قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر بوری پر چار سو پچاس سے ستر روپے سبسڈی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ | اسی بارے میں صدر مشرف کا مشکل ترین سال26 December, 2007 | پاکستان پاکستان میں آٹا سستا ہے: مشرف14 January, 2008 | پاکستان ’پی آئی اے ہوٹل نہ بیچے جائیں‘15 September, 2007 | پاکستان چیف جسٹس سے عوامی توقعات21 July, 2007 | پاکستان وزیراعظم کے خلاف نااہلی کا ریفرنس21 June, 2007 | پاکستان مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘20 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||