وزیراعظم کے خلاف نااہلی کا ریفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہلی کا ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کے دفتر میں جمع کروا دیاہے۔ دو صفحات پر مشتمل ریفرنس کی دستاویز پر تیس سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط موجود ہیں۔ جمعرات کو جمع کروائے جانے والے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ این اے انسٹھ سے منتخب شدہ رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم شوکت عزیز آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت کے اہل نہیں ہیں کیونکہ وہ سٹاک ایکسچینج بحران اور سٹیل ملز کی نجکاری کے حوالے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث رہے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج بحران کے حوالے سے ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز اپنے ’فرنٹ مین‘ عارف حبیب کے ذریعے اس بحران کے ذمہ دار ہیں جس میں عوام کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ ریفرنس کے مطابق سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین طارق حسن کے بیانات بھی ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں حالانکہ طارق حسن کو شوکت عزیز نے خود چیئرمین مقرر کیا تھا۔ ریفرنس میں سٹیل ملز کے حوالے سے وزیراعظم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ شوکت عزیز نے کابینہ کے ذریعے نجکاری منظور کرائی اور بعدازاں وزیرِ نجکاری کو چھٹی پر بھیج کر اپنے پسندیدہ وزیر اویس لغاری کو اضافی چارج دے دیا اور سٹیل ملز نجکاری کو اویس لغاری کے ذریعے منظور کرایا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس نجکاری کو روک دیا اور اس غلط فیصلے میں اپنے ریمارکس دیے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ازخود وزیراعظم کی نااہلی کے لیے کافی ہے، اس لیے وزیراعظم شوکت عزیز آئین کے آرٹیکل باسٹھ ڈی اور ایف کے تحت نااہل ٹھہرتے ہیں۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف مزید الزامات پہلے ریفرنس کی سماعت کے بعد منظرعام پر لائے جائیں گے۔ ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط نمبر سولہ کے تحت اس دستاویز کو چیف الیکشن کمشنر کو بھیج دیا جائے۔ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے لیاقت بلوچ، خورشید شاہ، شیری رحمان، خواجہ آصف، رحمت اللہ خلیل، خواجہ سعد رفیق، نیئر بخاری اور چوہدری منظور نے نماز ظہر کے وقفے میں سپیکر چوہدری امیر حسین کے چیمبر میں ان کے حوالے کیا۔ ریفرنس دائر کرنے کے بعد حزب اختلاف کے راہنماؤں لیاقت بلوچ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، شیری رحمان اور چوہدری منظور نے پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز سٹیل ملز نجکاری اور سٹاک ایکسچینج بحران کے براہ راست ذمہ دار ہیں اور انہوں نے ذاتی مفاد میں یہ فیصلے کئے ہیں اور عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، انہیں وزیراعظم رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی ریفرنس کے حوالے سے جب بھی ہمیں بلائیں گے، ہم انہیں مزید تفصیلات پیش کر دیں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے ریفرنس میں عائد کردہ الزامات سنجیدہ ہیں اور انہیں آسان نہیں لینا چاہیے۔ یہ ریفرنس عوام کی طرف سے وزیراعظم پر عدم اعتماد ہے جو کرپشن میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ کی کوئی افادیت نہیں ہے، اس کے باوجود اپوزیشن بجٹ کارروائی میں حصہ لے رہی ہے اور ہر پوائنٹ پر اپنا موقف اور کٹوتی کی تحریکیں پیش کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں تحریک عدم اعتماد ناکام29 August, 2006 | پاکستان تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش25 August, 2006 | پاکستان ریفرنس: ذمہ داری وزیراعظم کی؟08 June, 2007 | پاکستان ’عدالت کے فیصلے کا احترام ہوگا‘23 June, 2006 | پاکستان ’مشرف حکومت کرپٹ ہے‘20 September, 2006 | پاکستان ریفرنس الیکشن کمشنر کے حوالے20 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||