تحریک عدم اعتماد ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گئی ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے ایک سو چھتیسں اراکین نے اس تحریک کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دو سو ایک حکومت اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ سپیکر قومت اسمبلی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو ناکام قرار دیا۔ تحریک کی ناکامی پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ جمہوریت اور حق کی فتح ہے اور اس سے آئندہ جمہوری عمل کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے متستقبل میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر قاعد حزب اختلاف مولانہ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ یہ تحریک ناکام ہوگی لیکن یہ ان کا احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اگر چہ عددی شکست ہے لیکن عوام حکومت کی بدعنوانیوں سے آگاہ ہو گئے۔ تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں فوج کی ملکی سیاست میں مداخلت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے برائی کی جڑ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کرپشن کو تحفظ دے رہی ہے اور شوکت عزیز ایوان اور عوام دونوں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹیل مل کی نجکاری پر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے خلاف سب سے بڑی چارج شیٹ ہے اور اس فیصلے کے بعد شوکت عزیز کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں صدر مشرف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ حکومت جنرلوں نے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین جمہوری اور پارلیمانی نظام کے قیام پر زور دیتا ہے لیکن اس وقت ملک میں جو حکومت قائم ہے وہ آمریت اور صدارتی نظام پر مبنی ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے بھی اپنی تقریر میں فوج کی عملی سیاست میں دخل اندازی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق فوج اور سیاست کو الگ الگ رہنا چاہیئے لیکن فوج سویلین حکمرانوں کو حکومت کا حق نہیں دے رہی ہے اوریہ آمریت ہی برائی کی اصل جڑ ہے۔ اے آر ڈی کے سربراہ محدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو آئینی طریقے سے چلایا جاتا تو بہت سی برائیاں روکی جا سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے جمہوری طریقہ نیست و نابود کر دیا ہے اور ہم ملک کو فوج کے ہاتھوں سے بچانا اور مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ جب تک فوجی آمریت سے جان نہیں چھڑائی جاتی اس وقت تک ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد صرف میڈیا کی توجہ مبذول کرانے اور شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے تین بڑے رہنماؤں کی تقریروں میں وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی حکومت کے خلاف کوئی ٹھوس بات نہیں تھی۔ شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن صرف الزامات کی سیاست جانتی ہے اور حکومتی اراکین کی اسمبلی میں موجودگی وزیراعظم شوکت عزیز پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔ اجلاس سے قبل اپوزیشن اور حکومت رہنماؤں نے طے کیا تھا کہ نمازِ عشاء کے وقفے تک حزبِ اختلاف کے اراکین تحریکِ عدم اعتماد کے سلسلے میں اپنی آراء کا اظہار کریں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز جوابی تقریر کریں گے، پھر رائے شماری ہو گی اور یہ عمل رات دس بجے تک مکمل کر لیا جائے گا۔ | اسی بارے میں عدم اعتماد: ووٹنگ 29 اگست کو 24 August, 2006 | پاکستان یکم نومبر 1989 01 November, 2004 | قلم اور کالم وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد09 August, 2006 | پاکستان اعتدال پسند ماحول ضروری ہے: بےنظیر20 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: اسمبلی اجلاس ملتوی 28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||