BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پروفیسر کی ہلاکت، پانچ گرفتار

پروفیسر صفدر کی نمازِ جنازہ
نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پروفیسر کیانی کی نماز جنازہ بدھ کو ادا کی گئی
کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے پانچ افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے۔

گزشتہ روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پروفیسر کیانی کی نماز جنازہ آج ادا کی گئی۔ بلوچستان میں اس واقعہ کے خلاف تین دن کے لیے سوگ منایا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں تمام یونیورسٹیاں تین دن کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور اطلاعات کے مطابق پانچ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے لیکن اب تک کسی اہم ملزم کوگرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پروفیسر صفدر کیانی کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی میت اسلام آباد بھیج دی جائےگی اور ان کی تدفین پنجاب کے شہر پنڈ دادن خان میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ دن بارہ بجے بلوچستان یونیورسٹی میں ادا کی گئی۔

یاد رہے کہ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

پروفیسر صفدر کیانی انیس سو اسی میں بلوچستان یونیورسٹی میں تدریس سے منسلک ہو گئے تھے۔ اور ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر پنڈ دادن خان سے بتایا گیا ہے۔

پروفیسر کی نمازِ جنازہ
بلوچستان میں اس واقعہ کے خلاف تین دن کے لیے سوگ منایا جا رہا ہے
اس ماہ بلوچستان میں کسی ماہر تعلیم کے قتل کا یہ دوسرا واقع ہے۔اس سے قبل لورالائی ریزیڈنشل کالج کےپرنسپل محمد علی کوان کےملازم نےہلاک کردیا تھا۔

بلوچستان میں پولیس، فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں پر حملے تو معمول سے ہوتے رہے ہیں لیکن حملوں میں ملوث افراد کوکبھی گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

رواں سال کے ان چار ماہ سے کم عرصے میں تیس کے لگ بھگ اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک صحافی ڈاکٹر چشتی مجاہد کو بھی اس سال جنوری میں ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس کی ذمہ داری بھی مسلح تنظیم نے قبول کی تھی۔ مسلح تنظیم کی جانب سے کسی ماہر تعلیم کے قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں
بگٹی مہاجروں کی حالت زار
21 April, 2008 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی دھماکے، دو ہلاک
15 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد