مقامی طالبان سے مفاہمت کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے خصوصی نمائندہ برائے امورِ خارجہ اور سکیورٹی پالیسیز خاویئر سولانہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستانی عسکریت پسندوں سے مفاہمت کے عمل کی حمایت کرتا ہے اور اگر افغانستان کی حکومت چاہے تو وہ بھی افغان طالبان سے بات کرسکتی ہے لیکن یورپی یونین القاعدہ کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کی حامی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو دفتر خارجہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ خاویئر سولانا افغانستان کے ایک روزہ دورے کے بعد پاکستان آئے ہیں۔ اس دوران وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما مولانا صوفی محمد کی رہائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مولانا صوفی محمد کی رہائی کو مثبت پیش رفت قرار دیا تاہم اس بات کی تردید کی کہ حکومت نے یہ اقدام پاکستان کے مغوی سفیر طارق عزیز الدین کے اغواء کاروں کے مطالبے پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ قدم مالاکنڈ ڈویژن کی مقامی قیادت کے ساتھ اعتماد سازی کے سلسلے میں اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’یہ کثیر الجہت ہم آہنگی ہے اور اسکی ایک بنیاد یہ ہے کہ وہ (عسکریت پسند) ملک کے قانون کا احترام اور پاسداری کریں گے اور گن کلچر کو فروغ نہیں دیں گے، مقصد یہ کہ آپ کو اپنی رائے کا حق ہے لیکن اس رائے کے اظہار کے لیے آپ کو پرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت چاہے گی کہ وہ مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو پورا موقع دے ’لیکن دوسری طرف اگر ہم نے محسوس کیا کہ اس عمل کے پیچھے جو نیت کار فرما ہے وہ ختم ہوگئی ہے تو پھر دوسرے راستے بھی ہیں۔‘ ایک دوسرے سوال کے جواب میں خاویئر سولانا نے کہا کہ افغانستان کی حکومت چاہے تو وہ بھی اپنے قانون کے اندر رہتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں کر سکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ’نیٹو کا ادارہ، افغان طالبان سے بات چیت نہیں کرسکتا کیونکہ یہ (مفاہمت) ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پاکستان کے اندر پاکستان، اور افغانستان کے اندر افغانستان کی ذمہ داری سے بنتا ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یورپی یونین القاعدہ سے مذاکرات کا حامی ہے تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا ’جب ہم مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو ہم مفاہمت کے لیے ان شرائط کی بات کرتے ہیں جو کسی بھی ملک کے بنیادی قانون کی حدود میں ہوتی ہیں اور کسی بھی ملک کا بنیادی قانون اس کا آئین ہوتا ہے اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ آپ جن لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ ان حدود میں آتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے افغانستان بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہاں یورپی یونین نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور سکیورٹی بہتر بنانے میں بھی تعاون کیا ہے اور افغانستان کے معاملے میں پاکستان کا تعاون بھی کلیدی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے افغانستان میں منشیات کے کاروبار پر قابو پانے کی درخواست کا تذکرہ کرتے ہوئے یورپی یونین کے نمائندے نے کہا کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار نہ صرف سکیورٹی پر برے اثرات مرتب کر رہی ہے بلکہ اس سے کرپشن بھی بڑھ سکتی ہے اور یورپی یونین اسکے خاتمے کے لیے افغانستان کی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ شاہ محمود قریشی نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بارے میں یورپی یونین کے مبصرین کی جائزہ رپورٹ کو سراہا اور کہا کہ حکومت نے اس رپورٹ کو پارلیمینٹ میں بحث کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری اصلاحات کے بارے میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات دوبارہ شروع کر رہا ہے انہوں نے بتایا کہ بھارت کے سیکریٹری خارجہ اور وزیر خارجہ اکیس مئی کو پاکستان آ رہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کو اس سلسلے میں یورپی یونین کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کی رکنیت بحال ہونی چاہیے‘21 April, 2008 | پاکستان ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان باؤچرکی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں 25 March, 2008 | پاکستان امریکیوں کی ملاقاتیں جاری26 March, 2008 | پاکستان ’پاک افغان سرحد پر حملے ناگزیر‘ 31 March, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی میں مذہبی جذبات کا اظہار16 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||