BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 April, 2008, 23:15 GMT 04:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو سات ارب ڈالر کی پیشکش‘
نیگرو پونٹے اور یوسف رضا گیلانی
تعلقات کی بنیاد صرف عسکری تعاون نہیں ہے اور ہم ان کو دیرپا بنانا چاہتے ہیں
برطانیہ میں انگریزی زبان کے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ایک خبر کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے طے ہونے والی مشترکہ حکمت عملی کے تحت وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی حدود میں جاسوسی طیاروں کی پروازیں بند کر دے گا۔ اس حکمت عملی کے تحت سات ارب ڈالر سے زیادہ کا ایک امدادی پیکج آئندہ چند ماہ میں کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ پیکج میں پاکستان کو ملنے والی غیر عسکری امداد تین گنا کر دی جائے گی اور پیکج کا مقصد باہمی تعلقات کا از سر نو تعین کرنا ہے۔

امریکی پالیسی کی نئی سمت
 امدادی پیکج امریکہ کی پاکستان کے لیے پالیسی میں واضح طور پر نئی سمت طے کرتا ہے، جس کا محور گزشتہ نو سال کے زیادہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں بنیادی حلیف کے طور پر صدر پرویز مشرف اور پاکستان کی فوج تھے۔
پاکستان کو پر امن انتخابات اور مخلوط حکومت کے قیام پر ایک ارب ڈالر تک کا ’ڈیموکریٹک ڈِیوِیڈنڈ‘ دیا جائے گا۔ اس رقم میں سے دو سو ملین ڈالر آئندہ چند روز میں منظور ہو سکتے ہیں۔ گارڈین کے مطابق پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ نئے پیکج کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے ملنے والی زیادہ تر امداد غیر عسکری تحقیقاتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جوزف بِڈن کی طرف سے مرتب کیا جانے والا یہ امدادی پیکج امریکہ کی پاکستان کے لیے پالیسی میں واضح طور پر نئی سمت طے کرتا ہے، جس کا محور گزشتہ نو سال کے زیادہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں بنیادی حلیف کے طور پر صدر پرویز مشرف اور پاکستان کی فوج تھے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ واشنگٹن میں حکام نے کہا ہے کہ پالیسی کی سمت پہلے ہی بدلی جا چکی ہے۔

سینیٹر بِڈن کے ایک سینیئر ساتھی نے کہا کہ ’سینیٹر بِڈن بتانا چاہتے ہیں کہ تعلقات کی بنیاد صرف عسکری تعاون نہیں ہے اور ہم ان کو دیرپا بنانا چاہتے ہیں‘۔

امریکہ اور نئی حکومت
 دن بدن مشرف کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔ سویلین کنٹرول میں ہیں۔ لوگ اب مشرف سے نہیں مِل رہے۔۔۔ہم نئی سویلین حکومت سے مطمئن ہیں
امریکی اہلکار
خبر میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار کےحوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’دن بدن مشرف کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے۔ سویلین کنٹرول میں ہیں۔ لوگ اب مشرف سے نہیں مِل رہے۔۔۔ہم نئی سویلین حکومت سے مطمئن ہیں‘۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کہتی ہے کہ اسے افغان سرحد کے ساتھ ساتھ آباد پشتوں قبائل سے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت میں مذاکرات کی اپنی پالیسی کے لیے امریکی حکومت کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ جنوری میں امریکی خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکار اسلام آباد گئے تھے جہاں انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت امریکہ کو پاکستانی علاقوں میں جاسوسی طیاروں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے میں زیادہ آزادی دی گئی تھی۔ گارڈین کے مطابق اس کے بعد ان علاقوں میں حملوں میں اضافہ ہوا اور بعض اندازوں کے مطابق ایک روز میں آٹھ حملے بھی ہوئے۔ خبر میں لکھا ہے کہ برطانیہ نے بھی ان فضائی حملوں پر انحصار پر امریکہ کی مخالفت کی تھی جن کی بنیاد بعض اوقات غیر مصدقہ اطلاعات تھیں۔

گارڈین نے پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں امریکہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مزید فضائی کارروائی سے پہلے سویلین حکومت سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی نہ کہ صدر مشرف سے۔

اسی بارے میں
فوجی امداد، پابندیاں ختم
10 April, 2008 | پاکستان
’امریکی امداد دفاع پر خرچ‘
24 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد