BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آغا جاوید، ارباب رحیم کے قریبی

سندھ اسمبلی ہنگامہ
سندھ اسمبلی میں سابق وزیراعلیٰ پر حملے کے دوران لوگ ایک شخص کو حملے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں
سابق وزیراعلیٰ کو سندھ اسمبلی میں جوتا مارنے کے الزام میں زیر حراست آغا جاوید پٹھان خود ارباب غلام رحیم کے بھی قریب رہ چکے ہیں۔ تاہم وہ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز پارٹی شہید بھٹو میں سرگرم تھے اور ان دنوں پیپلز پارٹی کے آغا سراج کے قریب تھے۔ اس سلسلے میں آغا سراج درانی سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے جب جنرل پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بنے تو انہوں نے سندھ میں محمد میاں سومرو کو گورنر مقرر کیا اور گورنر نے اپنی جو کابینہ بنائی اس میں ارباب غلام رحیم بھی شامل تھے، آغا جاوید پٹھان اس وقت ان کے قریبی آدمی سمجھے جاتے تھے اور ڈیفنس ویو میں واقع ارباب غلام رحیم کی رہائشگاہ میں ان کے ساتھ ہی رہتے تھے۔

بعد میں جب 2002ء کے انتخابات کے بعد سندھ میں مسلم لیگ قاف نے دوسری ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور وزیر اعلیٰ علی محمد مہر بنے تو ارباب غلام رحیم پھر صوبائی وزیر تھے اور آغا جاوید پٹھان ان کے نجی معاون کے طور پر کام کرتے رہے۔

تاہم جون 2004ء میں جب اربا ب غلام رحیم وزیر اعلیٰ بنے تو آغا جاوید پٹھان کو انہوں نے بعض اختلافات کی وجہ سے دور کردیا۔

آغا جاوید پٹھان نے اس کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر غوث بخش مہر کی قربت حاصل کرلی اور کافی عرصے تک ان کے معاون کے طور پر کام کرتے رہے۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے سے وہ پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کے قریبی لوگوں میں شامل ہوگئے تھے اور ان کے میڈیا کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

جاوید پٹھان کی کوششوں کا ثمر
 گزشتہ ماہ جب میڈیا میں یہ خبر نشر اور شائع ہوئی کہ پیپلز پارٹی نے آغا سراج درانی کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے تو کئی صحافیوں نے اسے آغا جاوید پٹھان کی کوششوں کا ثمر کہا۔ وہ اور آغا سراج درانی دونوں ہی سندھ کے ضلع شکارپور سے تعلق رکھتے ہیں

گزشتہ ماہ جب میڈیا میں یہ خبر نشر اور شائع ہوئی کہ پیپلز پارٹی نے آغا سراج درانی کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے تو کئی صحافیوں نے اسے آغا جاوید پٹھان کی کوششوں کا ثمر کہا۔ وہ اور آغا سراج درانی دونوں ہی سندھ کے ضلع شکارپور سے تعلق رکھتے ہیں۔

آغا جاوید پٹھان پیشے کے لحاظ سے دانتوں کے ڈاکٹر ہیں اور وہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے بانی کارکنوں میں سے ہیں۔

نوے کی دہائی میں جب وہ لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں بی ڈی ایس کے طالب علم تھے اور میر مرتضی بھٹو وطن واپس نہیں آئے تھے اور پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کا وجود بھی نہیں تھا اس وقت پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم سندھ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (سپاف) کے بعض کارکنوں نے مرتضی بھٹو کو اپنا قائد قرار دیتے ہوئے سپاف ورکنگ کمیٹی کے نام سے علیحدہ دھڑا بنایا تھا۔ اس وقت اس کے سربراہ نوابشاہ کے غلام مصطفیٰ کورائی تھے آغا جاوید اس وقت سپاف ورکنگ کمیٹی کے عہدیدار تھے۔

بعد میں جب مرتضی بھٹو پاکستان آئے اور شہید بھٹو گروپ کے نام سے پیپلز پارٹی کا نیا دھڑا بنایا تو آغا جاوید اس کے سرگرم کارکن تھے لیکن مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد وہ سیاسی طور پر کافی عرصے تک غیرفعال رہے اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں ہاؤس جاب مکمل کرنے کے بعد کراچی کے نجی ہسپتال میں ملازمت کرتے رہے۔

اسی بارے میں
بارہ مئی کیس، فیصلہ محفوظ
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد