’جمہوریتیں جنگ نہیں کرتیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریتیں جنگ نہیں کرتیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی تمام سرحدوں پر امن ہو اور جنگ کرنے والی بندوقوں کو زنگ لگ جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ زرداری ہاؤس پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلی مفتی محمد سعید کی صاحبزادی اور جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر ڈاکٹر محبوبہ مفتی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ وہ آصف علی زرداری سے ان کی اہلیہ اور سابق وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کرنے آئی تھیں اور ساتھ ہی انہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین سے کہا ہے کہ وہ کشمیر کے تنازعے کے حل کے لئے پچھلے چند سالوں سے جاری امن کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ ’ہم نے زرداری صاحب سے یہی گذارش کی ہے کہ بہت خون بہا وہاں بھی اور یہاں بھی بہت خون بہہ رہا ہے کوشش کرنی چاہیے ہمیں صلاح صفائی کی اور جموں و کشمیر جن مشکلات کے دور سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اسے آگے چلانے کی ضرورت ہے۔‘ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ ”یہ جو ہمارے راستے کھلے ہیں ان کے ذریعے اب کاروبار کی ضرورت ہے، آپس میں آنے جانے کی سہولتیں ہونی چاہییں اور مسئلہ کشمیر جو کافی آگے چل چکا ہے اسے پس پشت ڈالنے کے بجائے حل کرنے کا بڑا موزوں وقت ہے۔‘ جب آصف زرداری سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پچھلے برسوں میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے سلسلے میں اعتماد سازی کے لئے جو اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں، انہیں جاری رکھیں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم صرف سی بی ایم (اعتماد سازی کے اقدامات) ہی نہیں بلکہ ایکشن چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آگے بڑھیں اور مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے آج کے بچوں کو جنہوں نے بندوق تھامی ہوئی ہے، ان کے ہاتھوں میں قلم دیدیا جائے، کاروبار دیدیا جائے، انہیں سرحد کے دونوں طرف اپنے رشتے داروں سے ملنے دیا جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر پالیسی کو پارلیمینٹ میں لے کر جائیں گے تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا ’میں اس پارلیمینٹ کا جونئر پارٹنر ہوں اور جونئر پارٹنر کی حیثیت سے میں وعدہ تو کرسکتا ہوں کہ میں اپنے سینئر پارٹنرز کے ساتھ کشمیر پالیسی کا جائزہ لیکر آگے بڑھائیں، اور یہی میں نے وعدہ کیا ہے۔‘ آصف زرداری نے کہا کہ ان کی جماعت کو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کشمیر کے لئے دی گئی قربانیاں یاد ہیں اور وہ انہیں آگے بڑھاتے ہوئے کشمیر میں امن لائیں گے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو پچھلی حکومت کی کشمیر پالیسی کو جاری رکھنا چاہیے اور اسے ادھورا نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہ ایک اچھی پالیسی ہے۔ ’اگر پاکستان اور بھارت نے امن کے عمل کو ترک کردیا تو پھر انہیں آگے جاکر زیرو سے شروع کرنا پڑے گا اور کشمیری عوام ایسا نہیں چاہتے کیونکہ وہ پہلے ہی کئی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں۔‘ انہوں نے کہا ’ہم پہلے ہی کچھ فاصلہ کم کرچکے ہیں ہمیں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہیے جو ہمیں پیچھے لے جائے، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینا چاہیے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ’ہمیں سرحد کو غیر متعلق بنانا ہوگا اور دونوں کشمیروں کے وسائل کو مقامی لوگوں کی فلاح و بہود کے لئے بروئے کار لانا ہوگا جیسا کہ 1947ء سے پہلے تھا۔‘ یاد رہے کہ آصف زرداری نے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے دو ہفتوں بعد بھارت کے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ تنازعہ کشمیر کا حل نئی نسل پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ نوجوان تجارت اور معاشی ترقی کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رشتے استوار کروانے کا باعث بنیں گے۔‘ ان کے اس بیان پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں اور جہادی تنظیموں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور علحیدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا تھا کہ ’یہ بیان ہماری ہی دل آزاری نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے تذلیل کرنے کے مترادف ہے ۔‘ | اسی بارے میں ’وزارتِ اعظمٰی کاامیدوار ہوں‘12 March, 2008 | پاکستان زرداری بی ایم ڈبلیو کیس میں بری14 March, 2008 | پاکستان زرداری جسٹس نظام کیس میں بری24 March, 2008 | پاکستان آصف زرداری: بادشاہ یا بادشاہ گر21 March, 2008 | پاکستان امریکی وفد کی ججوں سے ملاقات27 March, 2008 | پاکستان ’القاعدہ سے بات چیت نہیں‘28 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||