زرداری جسٹس نظام کیس میں بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جسٹس نظام احمد قتل کیس سے بری کردیا ہے۔ یہ مقدمہ گزشتہ بارہ سال سے زیر سماعت تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پیر کے روز آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست قبول کرتے ہوئے ثبوتوں کی عدم دستیابی پر انہیں باعزت بری کر دیا۔اس سے قبل انیس مارچ کو عدالت نے سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ آصف علی زرداری کے وکیل شہادت اعوان نے فیصلے کو حق کی فتح قرار دیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں عدالتوں سے آصف علی زرداری سٹیل مل کے چیئرمین سجاد حسین اور خودکشی کے دو مقدمات سے بری ہو چکے ہیں اور یہ تمام مقدمات سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ نظام احمد کے قتل کیس کا مقصد پیپلز پارٹی اور عدلیہ میں دوریاں پیدا کرنا تھا مگر آج وہ بھی مقدمہ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ واضح رہے کہ انیس سو چھیانوے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جسٹس ریٹائرڈ نظام احمد اور ان کے بیٹے ندیم ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے قریبی رشتہ دار کیپٹن سکندر نے پولیس تھانے فیروز آباد میں ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ نظام احمد نے عوامی مرکز کے علاقے میں واقع ایک قیمتی پلاٹ کی الاٹمنٹ کی مخالفت کی تھی۔ یہ پلاٹ اختر پیرزادہ نے خریدا تھا جنہیں آصف علی زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس نظام احمد شہری حقوق کے سرگرم کارکن اور جسٹس ناصر اسلم زاہد کے بہنوئی تھے۔اس مقدمے کی تفتیش کے لیے آصف علی زرداری کو سی آئی اے سینٹر منتقل کیا گیا تھا، جہاں پر مبینہ طور پر تشدد کے الزام میں وہ زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں ان کے خلاف اقدام خودکشی کے دو مقدمات دائر کیےگئے تھے۔ بعد میں عدالتی انکوائری میں حکومت کے اس الزام کو رد کیاگیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر حکومت کی مؤقف میں تبدیلی کے بعد آصف زرداری کے خلاف یہ مقدمہ کمزور پڑگیا تھا۔ سرکاری وکیل نعمت اللہ رندھاوا نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اس مقدمے کا مطالعہ کیا ہے مگر اس میں کسی بھی گواہ نے آصف علی زردای کے خلاف کوئی گواہی نہیں دی ، اس لیے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آصف علی زرداری پر یہ مقدمہ نہیں بنتا۔ اس مقدمے کے دیگر ملزمان اختر جاوید پیرزادہ، بلال شیخ اور بابر سندھو کے خلاف مقدمے کی سماعت چھبیس اپریل کو ہوگی۔ آصف علی زرداری کے خلاف سندھ میں اس وقت قتل کے دو مزید مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں میر مرتضیٰ بھٹوقتل کیس اور زمین کے تنازع پرصوبائی سیکرٹری آبپاشی عالم بلوچ کے قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔یہ مقدمات قومی مفاہمتی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد بھی قائم رہیں گے۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نےآصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کے بارے میں درخواست کی سماعت اٹھائیس مارچ تک ملتوی کردی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس مسز قیصر اقبال اور جسٹس محمود عالم رضوی پر مشتمل بینچ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے بتایا کہ انہیں اسلام آْباد سے نوٹیفیکیشن کا انتظار ہے اس لیے سماعت کچھ روز تک ملتوی کی جائے۔ عدالت نے انہیں مہلت دیتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔ آصف علی زرداری نے اپنی اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد بھی ان کے خلاف مقدمات ختم نہیں کیے گئے ہیں۔عدالت نے گزشتہ سماعت کے موقع پر حکومت کو ہدایت کی تھی کہ این آراو کے تحت کرپشن کے تمام مقدمات ختم کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی آنجہانی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی وطن واپسی سے قبل صدر پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت انیس سو ننانوے تک کرپشن کے الزامات کے تحت تمام مقدمات ختم کر دیےگئے تھے۔ | اسی بارے میں زرداری پر چار مقدمات باقی ہیں14 March, 2008 | پاکستان زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم 05 March, 2008 | پاکستان بینظیر مقدمات کا خاتمہ، فیصلہ مؤخر31 October, 2007 | پاکستان آرمی افسر ذمہ دار ہیں: زرداری19 October, 2007 | پاکستان اثاثوں کا مقدمہ: بینظیر و آصف بری04 July, 2007 | پاکستان بینظیر، زرداری کے ریڈ نوٹس جاری26 January, 2006 | پاکستان آصف زرداری سے انٹرویو22 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||