’قومی مفاد کا ہرقیمت پر دفاع ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیرونی ممالک کی طرف سے کیئے جانے والے کسی بھی ایسے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا جو قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا اور ملکی خودمختاری پر اثر انداز ہوتا ہو۔ پاکستان آنے والے امریکی اہلکاروں اور تریبت کاروں کو سہولیات اور پاکستانی قوانین سے مستثنیٰ قرار دیئے جانے کے حوالے سے مبینہ طور کیئے جانے والے امریکہ کے نئے مطالبات کی خبر ایک انگریزی روزنامے میں سنیچر کو شائع ہو تی۔ اس قومی روزنامے میں دلچسپ طور یہ خبر ایک سرکاری تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز کی دفاعی امور کی ماہر ڈاکٹر شیریں مزاری کے نام سے شائع کی اور اس میں دعوی کیا گیا کہ امریکہ کی حکومت نے پاکستان کو گیارہ نئے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے اس خبر پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے لیے ایک مختصر تحریری بیان جاری کیا۔ دفترِ خارجہ نےاس بیان میں نہ تو اس خبر کی تصدیق کی اور نہ ہی اس کی تردید۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بیان میں کہا کہ ’بیرونی حکومتیں وقتاً فوقتاً سہولیات اور استحقاق، عارضی کام یا راہداری حاصل کرنے کے لیے، تجاویز پیش کرتی رہتی ہیں۔‘ ترجمان نے مزید کہا کہ صرف وہی تجاویز قبول کی جاتی ہیں جو پاکستان کے قوانین اور ’ویانا کنونشن آن پریولجز اور امیونٹیز‘ جیسے بین الاقوامی ضوابط کے مطابق ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوئی چیز قبول نہیں کی جاتی جو ہمارے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی یا ہماری خودمختاری پر اثر انداز ہوتی ہو۔ شیریں مزاری نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالبات ان امریکی فوجیوں اور تربیت کاروں کی آمد کے پس منظر میں پیش کیئے گئے ہیں جو پاکستان کے نیم فوجی دستوں کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی تربیت دینے کے لیے پاکستان آنے والے ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق یہ تمام مطالبات حکومت پاکستان کی وزارتِ قانون، وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ نے مسترد کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ردعمل میں ان کی خبر کی براہ راست تردید نہیں کی گئی بلکہ اس کی ایک طرح سے تصدیق کی گئی ہے۔ شیریں مزاری نے ان دستاویز تک رسائی رکھنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ دستاویز خود دیکھی ہے اور یہ ’دو سو فیصد درست ہے‘۔ تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ شیریں مزاری کے مطابق امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان آنے والے امریکی اہلکاروں پر پاکستانی قانون لگاؤ نہیں ہو گا اور انہیں بغیر کسی روک ٹوک کے کوئی بھی چیز پاکستان لانے اور لے جانے کی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے جو مطالبات سامنے آئے ہیں ان میں سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ امریکی فوجی اہلکاروں کو امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے انتظامی اور تکنیکی عملے کے برابر رتبہ دیا جائے۔ | اسی بارے میں باؤچرکی سیاسی و غیرسیاسی ملاقاتیں13 June, 2007 | پاکستان باؤچر پاکستان کے’انتخابی مشن‘ پر13 June, 2007 | پاکستان APDMگرفتاریوں پر امریکی تشویش24 September, 2007 | پاکستان جمہوریت اور مشرف میں پھنسا امریکہ25 February, 2008 | پاکستان حبیب بینک سخت کنٹرول پر آمادہ21 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||