امریکہ کے تازہ مطالبات کی فہرست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی طرف سے مبینہ طور پر مندرجہ ذیل گیارہ مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں انگریزی زبان کے اخبار دی نیوز کی خبر میں ان ’مطالبات‘ کی تفصیل فراہم کی گئی ہے اور سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ امریکی فوجی اہلکاروں کو امریکی ایمبیسی میں کام کرنے والے انتظامی اور تکنیکی عملے کے برابر رتبہ دیا جائے۔ امریکہ کا دوسرا مطالبہ ہے کہ ان اہلکاروں کو بغیر کسی ویزا کے صرف قومی شناخت (مثال کے طور پر ڈرائیونگ لائسنس) پر پاکستان میں داخلے کی اجازت ہو گی۔ امریکہ کا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی لائسنس بشمول فوجی لائسنس کا قانونی جواز قبول کرنا ہوگا۔ چوتھے مطالبے کے تحت ان تمام اہلکاروں کو پورے پاکستان میں ان کی خواہش کے مطابق فوج ساتھ رکھنے اور فوجی وردی پہننے کی اجازت ہو گی۔ امریکہ نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی شہری امریکی قانون ِ فوجداری کے دائرہ کار میں ہوں گے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان اہلکاروں کو پاکستانی قانون کے تحت سزا نہیں دی جا سکے گی۔ امریکہ کے چھٹے مطالبے کے مطابق یہ امریکی اہلکار تمام ٹیکسز بشمول بالواسطہ ٹیکسوں یعنی ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنی ہوں گے۔ ساتواں مطالبہ یہ ہے کہ بغیر کسی جانچ پڑتال کے سامان درآمد اور برآمد کیا جائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکےگا کہ ملک سے کیا چیز باہر گئی ہے۔ آٹھواں مطالبہ یہ ہے کہ امریکی گاڑیوں ، بحری جہازوں اور طیاروں کو آزادانہ طور پر بغیر کسی پارکنگ فیس کے نقل و حرکت کی اجازت ہوگی۔ مطالبہ نمبر نو یہ ہے کہ مخصوص امریکی ٹھیکے داروں کو بھی ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ دسواں مطالبے کے مطابق امریکی اہلکار مفت ٹیلی مواصلات کے ساتھ ساتھ ریڈیو آلات اور لہروں کا استعمال کریں گے۔ امریکہ کی جانب سے آخری مطالبہ اُس مطالبے سے متصل ہے جس میں امریکی اہلکاروں پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوگا۔اور یہ کہ امریکی اہلکار کسی بھی قسم کے نقصانات جس میں کسی بھی پاکستانی اہلکار یا شہری کی موت یا کسی شہری کی جائیداد کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تمام دعووں یا ہرجانے سے مستثنی ہوں گے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||