BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 March, 2008, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ آدم خیل: جرگے میں دھماکہ، چالیس ہلاک

فائل فوٹو
اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہے
قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک جرگے کے دوران دھماکہ ہوا ہے جس میں چالیس افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔

درہ آدم خیل سے ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ زرغون خیل چیک پوسٹ سے پانچ سو میٹر دور ایک کھلے میدان میں منعقد ہونے والے جرگے میں ہوا جہاں سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق تقریبا بائیس سالہ ایک لڑکا اس میدان میں داخل ہوا جس کے بعد ایک شعلہ اٹھا اور اور دھماکہ ہوا اور پھر لاشیں نظر آنے لگیں۔

ہمارے نمائندے نے مزید بتایا کہ سول ہسپتال درہ آدم خیل کے ایمرجنسی سرجن کا کہنا ہے کہ اس خود کش حملے میں تقریبا چالیس افراد ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سول ہسپتال درہ آدم خیل سترہ لاشیں لائی گئیں ہیں۔ جبکہ پشاور پانچ زخمی بھجوائے گئے جن میں سے چار ہلاک ہو گئے ہیں۔ کوہاٹ کے ہسپتال میں بھی تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ متعدد افراد کے جسمانی اعضاء دھماکے میں اڑ جانے کی وجہ سے ان کے لواحقین ان کی لاشیں ہسپتال لانے کی بجائے گھر لے گئے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں لائے جانے والے ایک زخمی سچا خان جو کہ اس جرگے کے مشر بھی تھے کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ جرگہ درہ آدم خیل میں موجود سیکیورٹی فورسز کو واپس بھجوانے اور علاقے کا انتظام خود سنبھالنے کے لیے منعقد کیا تھا تا کہ علاقے میں موجود طالبان سے قبائلی روایات کے مطابق جرگے کے ذریعے بات چیت کی جا سکے اور علاقے میں امن و امان قائم کیا جائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حملے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی ۔

صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں منعقدہ پانچ قبا ئل کےاس جرگے کا بنیادی مقصد شدت پسندی کی لہر کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کا تعین کرنا تھا۔

یاد رہے کہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کے نئے نامزد وزیر اعلی امیر حیدر ہوتی نے کہا تھا کہ وہ پشتون روایات کے مطابق جرگوں کے ذریعے شدت پسندوں کو قابو کرنے کی کوشش کریں گے اور بظاہر یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔

امیر حیدر خان ہوتیطالبان ایک حقیت
’طالبان ایک قوت ہیں، مذاکرات کریں گے‘
جاوید اقبالجنازے پر حملہ
ڈی ایس پی کو دوبار کیوں نشانہ بنایا گیا؟
اسی بارے میں
جنازے پرخودکش حملہ، 35 ہلاک
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد