BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 March, 2008, 17:12 GMT 22:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درّہ: جرگے میں حملہ، چالیس ہلاک

درہ آدم خیل جرگے کا ایک زخمی
زخمیوں کو پشاور اور کوہاٹ منتقل کیا گیا ہے
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک قبائلی جرگے کے دوران ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں حکام کے مطابق پینتس (35) افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ہپستال ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس بتائی ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی صبح درہ آدم خیل بازار کے قریب ایک کھلے میدان میں پیش آیا جہاں ایک قبائلی جرگہ جاری تھا۔ جرگے میں موجود ایک قبائلی ملک خواگا جان نے بی بی سی بتایا کہ قبائلی مشران آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آور آیا اور جرگہ میں شامل ہوتے ہی خود کو ایک زوردار دھماکے سے اڑا دیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کی عمر بیس سے بائیس سال کے قریب تھی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پینتس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں اکثریت قبائلی مشران کی ہے۔ تاہم ایجنسی سرجن ایف آر کوہاٹ پشاور ڈاکٹر حامد آفریدی کے مطابق دھماکے میں چالیس افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو پشاور اور کوہاٹ منتقل کیا گیا ہے۔

جائے وقوعہ پر انسانی اعضاء دور تک بکھرے ہوئے پڑے تھے جن میں کھوپڑیاں، سر کے بال اور ٹانگیں شامل تھیں۔ مقامی لوگوں نے واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے کچھ اعضاء ایک چارپائی پر رکھے ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں بھی ملی ہیں جنہیں انتظامیہ نے اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔

کئی منٹ تک ہوا میں دھواں چھایا رہا: عینی شاہد

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی آگ کے شعلے بلند ہوئے اور کئی منٹ تک ہوا میں دھواں چھایا رہا اور کسی کو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔

ایجنسی سرجن ڈاکٹر حامد آفریدی نے بتایا کہ چونکہ ہلاک ہونے والے افراد کے کئی اعضاء دھماکے میں اڑ گئے تھے اس لیے لواحقین لاشیں ہسپتال لانے کی بجائے اپنے اپنے گھروں کو لے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ جرگہ میں بوستی خیل، اخوروال، تورچپر، شیراکی اور زرغون خیل قبائل کے آٹھ سو کے قریب عمائدین شریک تھے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جرگے میں اس بات کا تعین کیا جانا تھا کہ علاقے میں جاری شدت پسندی کی لہر کو کس طرح روکا جائے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگے میں قبائل نے فیصلہ کرنا تھا کہ آئندہ علاقے میں مقامی طالبان کو پناہ نہیں دی جائےگی اور اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

چند روز قبل بھی درہ آدم خیل کے تین قبائل نے مقامی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ علاقے میں کسی طالب کو پناہ نہیں دی جائےگی۔

واضح رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل خود کو مقامی طالبان کہنے والے عسکریت پسندوں نے درہ آدم خیل میں کوہاٹ ٹنل پر قبضہ کر کے کئی سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔ تاہم بعد میں حکومت نے فوجی کارروائی کرکے طالبان کو علاقے سے نکال دیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران درجنوں طالبان جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے کئی طالبان کمانڈروں کے گھر بھی مسمار کیے۔

امیر حیدر خان ہوتیطالبان ایک حقیت
’طالبان ایک قوت ہیں، مذاکرات کریں گے‘
جاوید اقبالجنازے پر حملہ
ڈی ایس پی کو دوبار کیوں نشانہ بنایا گیا؟
اسی بارے میں
جنازے پرخودکش حملہ، 35 ہلاک
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد