ٹریفک پولیس کے تین اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ٹریفک پولیس کے ایک سارجنٹ سمیت تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ہسپتال کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ واقعہ کلی اسماعیل کے قریب اس وقت پیش آیا جبکہ ٹریفک پولیس کا سارجنٹ اور دو پولیس اہلکار ڈیوٹی کے بعد موٹر سائیکلوں پر واپس آرہے تھے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ان اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس سے پولیس سارجنٹ موقع پر ہلاک جبکہ دو اہلکار ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ اس واقعہ کے بعد ٹریفک اور پولیس اہلکار ہسپتال کے سامنے بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق زخمیوں کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس وقت ہسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں تھے۔ بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصہ سے بم دھماکوں، راکٹ اور قومی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے گزشتہ سال نومبر میں دو دنوں میں پولیس پر تین حملے کیے گئے تھے جس میں چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح کوئٹہ سمیت آئے روز پولیس اہلکاروں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مئی دو ہزار چھ میں پولیس ٹریننگ سکول پر یکے بعد دیگرے اس وقت پانچ دھماکے ہوئے تھے جب پولیس اہلکار معمول کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ان دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مبینہ ترجمان نے قبول کی تھی۔ پولیس پر حملے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں مبینہ فوجی کارروائیوں کا بعد شروع ہو ئے۔ | اسی بارے میں ’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘14 January, 2008 | پاکستان ڈیرہ بگٹی:پائپ لائنوں کی تباہی21 December, 2007 | پاکستان کوہلو: ’آپریشن اور گرفتاریاں جاری‘09 December, 2007 | پاکستان کوئٹہ ایک اہلکار ہلاک دو زخمی24 November, 2007 | پاکستان کوئٹہ: سابق تحصیل ناظم کا قتل10 October, 2007 | پاکستان بلوچستان میں فرنٹئر کور پر حملہ29 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||