BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 February, 2008, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چوبیس فروری تک گرفتاری نہیں‘

اٹھارہ اکتوبر
پیپلز پارٹی سندھ نے ٹریبونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کے تحقیقاتی ٹریبیونل کے حکم کے باوجود چوبیس فروری تک سید قائم علی شاہ، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور عبدالغنی بلوچ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائےگی۔

یہ یقین دہانی جسٹس محمود عالم رضوی اور جسٹس مسز قیصر اقبال پر مشتمل ڈویزن بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کروائی گئی ہے۔عدالت نے یقین دہانی کے بعد سماعت پچیس فروری تک ملتوی کردی ہے۔

ٹریبونل نےگزشتہ سماعت پر بینظیر بھٹو کا ٹرک چلانے والے ڈرائیور عبدالغنی اور ڈاکٹر ذوالقفار مرزا کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے اور سید قائم علی شاہ کو پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے جلوس میں ہونے والے بم حملے کے تحقیقاتی ٹریبونل کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کی سربراہی میں بنائے گئے اس ٹریبونل میں پولیس افسران نے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس ٹریبونل کی تشکیل غیرقانونی ہے اور اس کے پاس کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ اس ٹریبونل کا مقصد اصل مجرمان کو تحفظ فراہم کرنا ہے کیونکہ اٹھارہ اکتوبر کے حوالے سے بینظیر بھٹو کی ایف آئی آر بھی رجسٹر نہیں کی گئی ہے اور جب سیشن جج سے اس کی اجازت لی گئی تو ہائی کورٹ سے اسے منسوخ کروایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹریبونل کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس غوث محمد متعصب ہیں۔ جب وہ احتساب عدالت کے جج تھے تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو سزائیں دیں جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے رد کیا۔ ان سے انصاف کی کوئی بھی توقع نہیں ہے اس لیے اس ٹریبونل کو ختم کیا جائے۔‘

سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جانب سے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے بعد سندھ حکومت نے ریٹائرڈ جج ڈاکٹر غوث محمد کی سربراہی میں ٹریبونل تشکیل دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد