BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 February, 2008, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرکی: دو مقدمات میں ضمانت منظور

قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی(فائل فوٹو)
صفدر سرکی گزشتہ چند ماہ سے ژوب کی جیل میں ہیں
بلوچستان کے علاقے ژوب کے ضلعی جج ظفر علی کھوسو کی عدالت نے سندھی قومپرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کی دو مقدمات میں ضمانت منظور کردی ہے۔ جبکہ باقی ایک مقدمے میں ان کی ضمانت کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے وکیل نے دلائل مکمل کیے ہیں۔صفدر کےخلاف درج تیسرے مقدمےمیں ان کے ضمانت کا فیصلہ چھ فروری تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

ڈاکٹر صفدر سرکی کے وکیل محمد خان شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ژوب نے ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوف کےمتلعق دو مقدمات میں دو اور ایک لاکھ روپیہ کی ضمانتیں منظور کر دی ہیں جبکہ کار کی جعلی نمبر پلیٹ لگانے کےمقدمےمیں ان کی ضمانت کا فیصلہ چھ فروری کو ہوگا۔

ڈاکٹر صفدر سرکی امریکی شہری ہیں، جنہیں اٹھارہ ماہ لاپتہ رکھنےکے بعد گزشتہ اکتوبر میں بلوچستان کے علاقے حب سے پولیس نے دوبارہ اور باقاعدہ گرفتار کیا تھا۔ان کے خلاف ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوف رکھنے کے ساتھ اپنی کار پر جعلی نمبر پلیٹ لگانے کےمقدمات درج کیے گئے تھے۔

صفدر سرکی اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے ازخود نوٹس لینے کے بعد حکومتی ادارے حرکت میں آگئے تھے۔صفدر سرکی کو گیارہ اکتوبر کے دن ظاہر کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد مقدمے کی چیف جسٹس خود سماعت کر رہے تھے۔

صفدر سرکی اپنی اسیری کےدروان سندھی قومپرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کے بلا مقابلہ دوبارہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے ہیں۔وہ تارکین وطن سندھیوں کی تنظیم ورلڈ سندھی کانگریس کے چئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

صفدر سرکی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے غیرقانونی قید میں تھے۔اٹھارہ ماہ ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی بندھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کی آنکھیں سخت متاثر ہوئی ہیں۔ ’جیل میں نامناسب حالات میں رہنے کی وجہ سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔انہیں اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے ہسپتال داخل ہونا ہے کیونکہ ان کی بینائی مکمل ختم ہونے کے خدشات ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد