رانا بھگوان داس دوبارہ’نظر بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس کو جمعرات کو وکلاء کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرنے کے بعد غیراعلانیہ طور پر ان کی رہائش گاہ پر دوبارہ نظر بند کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ وکلاء کے کسی اجتماع سے خطاب کے بعد انہیں گھر میں محبوس کیا گیا ہے۔ رانا بھگوان داس کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ رانا بھگوان داس نے شام پانچ بجے کی فلائٹ سے اسلام آباد روانہ ہونا تھا لیکن سہ پہر تین بجے کے قریب ان کےگھر کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی جس نے انہیں اسلام آباد جانے سے روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے تو ان کا سامان بھی گاڑی میں رکھ دیا تھا لیکن پولیس نے جانے سے منع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوپر سے آرڈر ہے اور ہم مجبور ہیں۔‘ تاہم سیکرٹری داخلہ حکومت سندھ عارف احمد خان کا کہنا ہے کہ رانا بھگوان داس کو نظر بند نہیں کیا گیا ہے اور ان کی اپنی حفاظت کے لیے انہیں شہر سے باہر جانے سے روکا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ملک میں ہر جگہ ایسے حالات ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ یہاں (کراچی) سے کہیں جائیں البتہ کراچی میں نقل و حرکت کرنے کی انہیں مکمل اجازت ہے۔ وہ ملک کی ایک مشہور شخصیت ہیں اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ انہیں کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہو‘۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر جمعرات کو وکلاء نے یوم افتخار منایا اور ریلی نکالی تھی۔ اس ریلی سے رانا بھگوان داس نے خطاب کرتے ہوئے وکلاء کو احتجاجی تحریک جاری رکھنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا ’معزول ججز بحال ہوں گے اور خلافِ آئین اقدامات اٹھانے والے اور ان کا ساتھ دینے والے انہی عدالتوں میں پیش ہوں گے‘۔ | اسی بارے میں پاکستان میں وکلاء کا ’یومِ افتخار‘ 31 January, 2008 | پاکستان الیکشن کمشنر بھگوان داس: نواز16 January, 2008 | پاکستان جسٹس رانا بھگوان داس ’نظر بند‘ 12 January, 2008 | پاکستان رانا بھگوان داس کی نظربندی ختم16 January, 2008 | پاکستان دو معزول جج اپنے گھروں کو روانہ16 December, 2007 | پاکستان عالمی برادری نے جو کیا، کم کیا: بھگوان داس10 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||