BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رانا بھگوان داس کی نظربندی ختم

رانا بھگوان داس
بدھ کو وکلاء کے وفد نے رانا بھگوان داس سے ان کے گھر ملاقات کی
کراچی میں رہائش پذیر سپریم کورٹ کے سابق جسٹس رانا بھگوان داس کی نظر بندی ختم کردی گئی ہے۔

رانا بھگوان داس کو بارہ جنوری کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے نومنتخب عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے بعد باتھ آئی لینڈ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر غیر اعلانیہ طور پر نظر بند کر دیا گیا تھا اور ان کی رہائشگاہ کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی تھی۔

تاہم منگل کو ان کی رہائش گاہ سے پولیس کو ہٹا لیا گیا اور بدھ کو سندھ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں اور ارکان کے اکیس رکنی وفد نے رانا بھگوان داس سے ان کے گھر جاکر ملاقات کی۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل نعیم قریشی نے بتایا کہ ان کی ملاقات کا مقصد رانا بھگوان داس سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رانا بھگوان داس کو کراچی بار سے خطاب کرنے اور وکلاء کی تحریک کی تعریف کرنے کی پاداش میں غیرقانونی طور پر نظربند کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق رانا بھگوان داس نے وفد کو بتایا کہ غیراعلانیہ نظربندی کے دوران انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ نعیم قریشی کے مطابق’رانا بھگوان داس نے یہ بھی کہا کہ وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے بہت جلد عبدالستار ایدھی کے ادارے میں شامل ہونے کا اعلان کریں گے‘۔

واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی میں اپنے خطاب میں رانا بھگوان داس نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کے بعد شروع ہونے والی وکیلوں کی جدوجہد کی تعریف کی تھی۔ انہوں وکلاء پر زور دیا تھا کہ وہ آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں کیونکہ اس کا پھل انہیں جلد ملنے والا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے برطرف کیے گئے تمام جج عنقریب بحال ہوجائیں گے اور عدلیہ پھر سے آزاد ہوجائے گی۔

نظربندی کے اگلے دن تیرہ جنوری کو انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے کارکن ان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے تھے جن کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس نے دس مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا اور ان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا تھا۔

اسی بارے میں
پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 25
02 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد