BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 January, 2008, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز کی زرداری سے ملاقات

شہباز شریف
ترجمان کے مطابق شہباز شریف نےانتخابات پر گفتگو نہیں کی۔ (فائل فوٹو)
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر آئندہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمینٹ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے غیرآئینی اقدامات کی توثیق کرتی ہے تو پھر ’قائد اعظم کے پاکستان کا خدا حافظ۔‘

یہ بات انہوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس سے قبل انہوں نے بلاول ہاؤس کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔

’میٹ دی پریس‘ میں انہوں نے بتایا کہ نصف گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں انہوں نے آصف زرداری سے بے نظیر بھٹو کے قتل پر تعزیت کی اور ملکی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

’ملاقات میں یہ طے پایا کہ ہم حقیقی جمہوریت کی بحالی اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے تعاون کریں گے۔ صرف آپس میں ہی نہیں بلکہ ملک کی ان تمام جماعتوں سے بھی جو جمہوریت اور شفاف الیکشن پر یقین رکھتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت انتخابات سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لئے قومی یکجہتی اور اجتماعی بصیرت کا مظاہرہ کیا جائے۔

’ آج وفاق پاکستان کو جس طرح سے خطرات لاحق ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ 1971ء کے بعد آج یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے ہمیں اپنی اجتماعی قوت کو بروئے کار لاکر قائد کے بچے کچھے پاکستان کو بچانا ہوگا۔‘

شہباز شریف نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو فراڈ اور جھرلو انتخابات قرار دیا لیکن ساتھ ہی اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ الیکشن میں حصہ نہ لینا زیادہ بری بات ہوگی اس لئے ان کی جماعت اس میں حصہ لے رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو ان کی جماعت الیکشن کے نتائج کو نہیں مانے گی اور اس کے خلاف تحریک چلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بھی بہتر ہے مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے اس مؤقف کے باوجود پرویز مشرف کے ایلچیوں سے ملاقاتیں کیوں کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ بریگیڈئر نیاز ان کے پرانے دوست ہیں اور وہ ان کی طبعیت ناساز ہونے کی بناء عیادت کے لئے ان سے ملے تھے۔

انہوں نے پرویز مشرف سے مشروط مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا بلکہ کہا کہ ’ڈائیلاگ پر ہم یقین رکھتے ہیں لیکن اس کے لئے شرائط میاں نواز شریف نے رکھی ہیں کہ مشرف ایک غیرجانبدار نگراں حکومت کے لئے راستہ بنائیں اور ملک کے اوپر رحم کرتے ہوئے استعفی دینے پر تیار ہوں۔‘

’میں آج ان سے پھر اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملکی مفاد کے اوپر اپنی ذات کو قربان کریں اور کہہ دیں کہ میں شفاف الیکشن کرانے پر تیار ہوں اور اس کے بعد گھر جانے کو تیار ہوں آئیں میرے ساتھ بیٹھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہے وہ میٹنگ پوائنٹ جس پر بات ہوسکتی ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے ساتھ الیکشن کے بعد حکومت سازی میں مفاہمت کے امکان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی جماعت تنہا پاکستان کو نہیں چلاسکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کے بعد منتخب پارلیمینٹ ایک قومی حکومت تشکیل دے اور وہ آئندہ پانچ سالوں کے لئے ایک قومی ایجنڈہ تشکیل دے اسی میں ملک کی بہتری ہے۔

واضح رہے کہ شہباز شریف نے جلاوطنی ختم ہونے کے بعد پہلی بار صوبہ سندھ کا دورہ کیا ہے اس سے قبل گزشتہ ماہ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی قتل سے پہلے کراچی اور اندرون سندھ کا دورہ کیا تھا اور ستائیس دسمبر کے بعد نوڈیرو جاکر آصف علی زرداری سے تعزیت بھی کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد