BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 16:59 GMT 21:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور:اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ جاری

وکلاء
پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے وکلاء صدر مشرف کے بعض اقدامات اور فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں
مالی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صوبہ سرحد کی وکلاء برادری سرحد بار کونسل کے اعلیٰ عدالتوں کے غیر میینہ مدت تک بائیکاٹ جاری رکھنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کمر بستہ نظر آتی ہے۔

سرحد بار کونسل کے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ جاری رکھنے کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء نے بدھ کے روز پشاور میں پشاور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

دن بھر وکلاء اچھی خاصی تعداد میں ہائی کورٹ کی عمارت میں موجود تھے لیکن اُن میں سے کوئی عدالتوں میں اپنے مقدموں کی پیروی کے لیے پیش نہ ہوا ۔

وکلا کی قربانیاں
 وکلاء نے بڑی زبردست قربانی دی ہے لیکن قومی مفاد میں تکالیف تو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
لطیف آفریدی
اس طرح پشاور کی وکلاء برادری نے پیر کے روز کیے گئے پاکستان بار کونسل کے اُس فیصلے سے روگردانی کی جس کے تحت ملک بھر میں اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے کئی ججوں کو معزول کیے جانے کے خلاف شروع کی گئی وکلاء کی تحریک کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔

صوبہ سرحد کے علاوہ ملک کے باقی صوبوں میں وکلاء نے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ کو ہر ہفتے ایک دن تک محدود کرنے کے پاکستان بار کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

وکلاء کی تحریک پہلے ہی پشاور کے کئی وکیلوں کے لیے ’غیر متوقع طور پر لمبی‘ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل کا باعث تھی ۔

اب اس تحریک میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے فیصلے کے ساتھ ہی وکلاء کو درپیش مسائل بھی ’غیر معینہ مدت تک‘ موجود رہنے کا امکان ہے۔ جس کی بنا پر کئی حلقوں میں یہ رائے تقویت پا رہی ہے کہ مالی مسائل کے شکار وکلاء آخر کار تنگ آکر احتجاج ختم کریں گے اور اس طرح حکومت کے خلاف اور معزول جج صاحبان کے حق میں جاری تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔

لیکن پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ کے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہوگا اور وکلاء کی تحریک صوبہ سرحد میں جاری رہے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک وکلاء کو درپیش مالی مشکلات کا تعلق ہے تو ضلع کی سطح پر وکلاء کے لیے کافی گنجائش رکھی گئی ہے‘۔

البتہ، اُن کے بقول، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر وکلاء کو کافی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اُن کے اندازے کے مطابق تین ماہ سے جاری احتجاج کی وجہ سے پاکستان کی سطح پر وکلاء برادری کو ’اربوں روپے‘ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا: ’وکلاء نے بڑی زبردست قربانی دی ہے لیکن قومی مفاد میں تکالیف تو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔‘

نوید اختر ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رُکن ہیں اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوئے اُنہیں کُچھ سال ہی ہوئے ہیں۔ تین ماہ سے جاری اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ نے جہاں نوید اختر جیسے جواں سال وکلا کے لیے گوں نہ گوں مالی مشکلات پیدا کیں وہیں اُن کے موکلوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

موقف درست
 گوکہ تحریک توقع سے زیادہ ہی لمبے عرصے تک جاری رہی اور کئی مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک کو جاری رکھنے کے حوالے سے پائے جانے والے جذبے میں کمی نہیں آئی کیونکہ ہمارا مؤقف درست ہے۔
ایک وکیل
لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود وہ وکلاء تحریک جاری رہنے کے حق میں ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ گوکہ تحریک توقع سے زیادہ ہی لمبے عرصے تک جاری رہی اور کئی مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک کو جاری رکھنے کے حوالے سے پائے جانے والے جذبے میں کمی نہیں آئی کیونکہ ہمارا مؤقف درست ہے۔‘

کامران عارف ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ سرحد کی وکلا برادری میں سے کثیر تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اس کو مقاصد کے حصول تک جاری رہنا چاہیے۔ البتہ اُن کے مطابق بعض سینیئر وکلاء کے خیال میں اس تحریک کو عزت مندانہ انداز میں ختم کرنے کے لیے بھی حکمتِ عملی ہونی چاہیے تھی۔ ’لیکن ایسا سوچنے والے وکلاء کی تعداد نہایت کم ہے، آٹے میں نمک کے برابر۔‘

لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ مستحق وکلاء کی مالی مشکلات کے تناظر میں جائز ضروریات پورا کرنے کے لیے ’لائیرز فاؤنڈیشن‘ کے فنڈ کو وسعت دینے کے لیے جلد ہی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ متومل وکلا اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے چندہ مہم کے ذریعے پیسے اکھٹے کیے جائیں اور احتجاج کی وجہ سے مسائل کے شکار وکلاء کی جائز ضروریات پوری کی جاسکیں۔

وکلاء کی ہڑتال
’اقتصادی مشکلات کے باوجود تحریک جاری‘
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
اسی بارے میں
سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا
07 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد