پشاور:اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صوبہ سرحد کی وکلاء برادری سرحد بار کونسل کے اعلیٰ عدالتوں کے غیر میینہ مدت تک بائیکاٹ جاری رکھنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کمر بستہ نظر آتی ہے۔ سرحد بار کونسل کے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ جاری رکھنے کے فیصلے کی روشنی میں وکلاء نے بدھ کے روز پشاور میں پشاور ہائی کورٹ کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ دن بھر وکلاء اچھی خاصی تعداد میں ہائی کورٹ کی عمارت میں موجود تھے لیکن اُن میں سے کوئی عدالتوں میں اپنے مقدموں کی پیروی کے لیے پیش نہ ہوا ۔
گزشتہ برس تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے کئی ججوں کو معزول کیے جانے کے خلاف شروع کی گئی وکلاء کی تحریک کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ صوبہ سرحد کے علاوہ ملک کے باقی صوبوں میں وکلاء نے اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ کو ہر ہفتے ایک دن تک محدود کرنے کے پاکستان بار کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ وکلاء کی تحریک پہلے ہی پشاور کے کئی وکیلوں کے لیے ’غیر متوقع طور پر لمبی‘ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل کا باعث تھی ۔ اب اس تحریک میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے فیصلے کے ساتھ ہی وکلاء کو درپیش مسائل بھی ’غیر معینہ مدت تک‘ موجود رہنے کا امکان ہے۔ جس کی بنا پر کئی حلقوں میں یہ رائے تقویت پا رہی ہے کہ مالی مسائل کے شکار وکلاء آخر کار تنگ آکر احتجاج ختم کریں گے اور اس طرح حکومت کے خلاف اور معزول جج صاحبان کے حق میں جاری تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ لیکن پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ کے خیال میں ایسا کچھ نہیں ہوگا اور وکلاء کی تحریک صوبہ سرحد میں جاری رہے گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک وکلاء کو درپیش مالی مشکلات کا تعلق ہے تو ضلع کی سطح پر وکلاء کے لیے کافی گنجائش رکھی گئی ہے‘۔ البتہ، اُن کے بقول، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر وکلاء کو کافی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اُن کے اندازے کے مطابق تین ماہ سے جاری احتجاج کی وجہ سے پاکستان کی سطح پر وکلاء برادری کو ’اربوں روپے‘ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا: ’وکلاء نے بڑی زبردست قربانی دی ہے لیکن قومی مفاد میں تکالیف تو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔‘ نوید اختر ایڈوکیٹ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رُکن ہیں اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوئے اُنہیں کُچھ سال ہی ہوئے ہیں۔ تین ماہ سے جاری اعلیٰ عدالتوں کے بائیکاٹ نے جہاں نوید اختر جیسے جواں سال وکلا کے لیے گوں نہ گوں مالی مشکلات پیدا کیں وہیں اُن کے موکلوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔
کامران عارف ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ سرحد کی وکلا برادری میں سے کثیر تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اس کو مقاصد کے حصول تک جاری رہنا چاہیے۔ البتہ اُن کے مطابق بعض سینیئر وکلاء کے خیال میں اس تحریک کو عزت مندانہ انداز میں ختم کرنے کے لیے بھی حکمتِ عملی ہونی چاہیے تھی۔ ’لیکن ایسا سوچنے والے وکلاء کی تعداد نہایت کم ہے، آٹے میں نمک کے برابر۔‘ لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ مستحق وکلاء کی مالی مشکلات کے تناظر میں جائز ضروریات پورا کرنے کے لیے ’لائیرز فاؤنڈیشن‘ کے فنڈ کو وسعت دینے کے لیے جلد ہی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ متومل وکلا اور معاشرہ کے دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے چندہ مہم کے ذریعے پیسے اکھٹے کیے جائیں اور احتجاج کی وجہ سے مسائل کے شکار وکلاء کی جائز ضروریات پوری کی جاسکیں۔ |
اسی بارے میں سرحد: بار کے فیصلے سے اختلاف15 January, 2008 | پاکستان ’ذمہ دار مشرف حکومت‘: وکلاء11 January, 2008 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ10 January, 2008 | پاکستان سندھ: وکلاء پر دباؤ بڑھ گیا07 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||