سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کےسکاٹ لینڈ یارڈ کےمزید تین تفتیشی ماہرین نےسانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو جوائن کر لیا ہے۔اس طرح اب اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل ایک افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد نے اس واقعہ کی تفتیش کے بارے میں اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس غیر ملکی ٹیم نے بدھ کے روز پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں پاکستانی ٹیم کے ہمراہ اس واقعہ کی تفتیش جاری رکھی اور انہوں نے متعدد پولیس اہلکاروں کے بیانات کو کیمرہ پر ریکارڈ کیے گئے جو سانحہ کے روز لیاقت باغ میں ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ستائیس دسمبر کو لیاقت باغ کے باہر ہونے والی فائرنگ اور خود کش حملےمیں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان ان پولیس اہلکاروں کے موبائیل فون کے ریکارڈ کو بھی چیک کر رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے کچھ ارکان آج لاہور روانہ ہورہے ہیں جہاں پر فرنزک لیبارٹری میں جائے حادثہ سے حاصل کیے گئے شواہد کی رپورٹ دیکھیں گے اور اس کے علاوہ وہ ان نمونوں کے دوبارہ ٹیسٹ بھی لیں گے۔ راولپنڈی کی پولیس اور انتظامیہ نے اس سانحہ کے رونما ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد جائے حادثہ کو دھو ڈالا جس سے وہ شواہد جو اس واقعہ کی تفتیش میں مدد گار ثابت ہوسکتے تھے، ضائع کردیئے گئے۔ اس ضمن میں نگران وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز کا کہنا ہے کہ پولیس نےجائے حادثہ سے ضرروی شواہد اکھٹے کر لیے تھے اس لیے اس جگہ کو صاف کرنے سے کوئی شواہد ضائع نہیں ہوئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس کو جائے حادثہ سے ملنے والی پستول سے مبینہ خودکش حملہ آور کی انگلیوں کے نشانات نہیں ملے چونکہ اس واقعہ کے بعد جائے حادثہ پر بھگدڑ مچ جانے کی وجہ سے اس پستول سے نشانات ضائع ہوگئے تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم لاہور میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم لاہور میں اسلحہ کی جانچ اور چند ڈی این اے ٹسٹ کی رپورٹیں لینے سمیت دیگر شواہد اکٹھے کرے گی۔ لاہور میں فورانزک سائنس لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر علی حسین نے اس بات کی تصدیق کی کہ برطانوی ٹیم تفتیش کے سلسلے میں ان کی لیبارٹری کی دورہ کرنا چاہتی ہے۔ لیبارٹری کےاہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں راولپنڈی پولیس نے بینظیر بھٹو قتل کیس کے سلسلے میں دو پستول،گولیوں کے دو خالی خول اور ایک نہ چل سکنے والی گولی بھیجوائی ہے۔اس کے جانچ کے لیےماہرین کا تین رکنی بورڈ بنا دیا گیا ہے جو ایک دو روز میں رپورٹ بنا دے گا۔ اہلکار نے واضح کیا کہ انہیں گولی کا سکہ فراہم نہیں کیا گیا۔اس لیے ان کی جانچ گولی کے خول اور پستول کے آپس میں تعلق تک محدود ہے۔ لیبارٹری اہلکار کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والا ایک پستول سات ایم ایم کا ہے اور دوسرا تیس بور ہے جبکہ تینوں کارتوس تیس بور کے ہیں۔ اہلکار نے واضح کیا کہ انہیں گولی کا سکہ فراہم نہیں کیا گیا۔اس لیے ان کی جانچ گولی کے خول اور پستول کے آپس میں تعلق تک محدود ہے۔ | اسی بارے میں بینظیرقتل: برطانوی ٹیم معاونت کریگی04 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل، برطانوی تفتیش شروع05 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل، پولیس نفری پر سوال06 January, 2008 | پاکستان ’حکومت ملزم بچاؤ مہم میں مصروف‘ 03 January, 2008 | پاکستان زرداری کی سکیورٹی کا مطالبہ05 January, 2008 | پاکستان ’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘05 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||