’پاکستان پرنئی پالیسی کامشورہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں انگریزی زبان کے اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ بُش انتظامیہ پاکستان کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی پر غور کر رہا ہے جس کے تحت غالباً سی آئی اے کو امریکی فوج کے ساتھ مِل کر قبائیلی علاقوں میں جارحانہ کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔ اخبار کے مطابق جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں امریکی صدر جارج بش، نائب صدر ڈک چینی اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس شریک ہوئی تھیں۔ اخبار کے مطابق ملاقات کے کچھ شرکاء نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی حکومت کو القاعدہ سے اتنا شدید خطرہ لاحق ہے کہ وہ شاید امریکہ کو کارروائئ کے لیے زیادہ آزادی دینے پر رضامند ہو جائیں۔ اخبار نے کچھ مبصرین کا حوالہ دیا جنہوں نے پاکستان میں ممکنہ رد عمل سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ اب تک پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں جاری لڑائی سے زیادہ تر دور رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’اسامہ کا سراغ کھو چکے ہیں‘14 March, 2005 | پاکستان وانا آپریشن بند کیا جاۓ، وکلاء26 March, 2004 | پاکستان ’شدت پسندوں کا صفایا کر دوں گا‘24 May, 2004 | پاکستان غیر ملکیوں کے خلاف لشکر تیار03 April, 2007 | پاکستان قبائلی علاقوں سے باہر قبائلی فکر مند26 July, 2007 | پاکستان وزیرستان آپریشن کے خلاف مظاہرے12 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||