BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 January, 2008, 05:43 GMT 10:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان پرنئی پالیسی کامشورہ‘
وزیرستان(فائل فوٹو)
امریکہ کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں کارروائی کے خلاف شدید رد عمل ہو سکتا ہے: مبصرین
امریکہ میں انگریزی زبان کے اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ بُش انتظامیہ پاکستان کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی پر غور کر رہا ہے جس کے تحت غالباً سی آئی اے کو امریکی فوج کے ساتھ مِل کر قبائیلی علاقوں میں جارحانہ کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔

اخبار کے مطابق جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں امریکی صدر جارج بش، نائب صدر ڈک چینی اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس شریک ہوئی تھیں۔ اخبار کے مطابق ملاقات کے کچھ شرکاء نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی حکومت کو القاعدہ سے اتنا شدید خطرہ لاحق ہے کہ وہ شاید امریکہ کو کارروائئ کے لیے زیادہ آزادی دینے پر رضامند ہو جائیں۔

اخبار نے کچھ مبصرین کا حوالہ دیا جنہوں نے پاکستان میں ممکنہ رد عمل سے خبردار کیا ہے۔ امریکہ اب تک پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں جاری لڑائی سے زیادہ تر دور رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد