’شدت پسندوں کا صفایا کر دوں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود غیرملکی باشندے، پاکستان، چین اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں شدت پسند کاروائیوں میں کسی نہ کسی طرح ملوث ہیں اور وہ انہیں ختم کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ پیر کو تین روزہ طلباء کنوینشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا قریبی دوست چین شدت اور انتہاپسندوں سے پریشان ہے۔ ان کے بقول چینی حکمرانوں نے پاکستان سے کہا کہ دوستی کی علامت، شاہراہ قراقرم کو اب انتہا پسند چین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کو مطلوب سب سے بڑا دہشت گرد پاکستان میں گزشتہ دنوں مارا گیا تھا اور سعودی عرب ہو یا انڈونیشیا ہر جگہ شدت پسندوں کی کوئی نہ کوئی کڑی قبائیلی علاقوں تک آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو بچانے کے لئے مذہب اور اسلام کو بیچ میں لایا جاتا ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ ان کے بقول یہ دہشت گردی ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ حدود آرڈیننس ہو یا تحفظِ ناموس رسالت کا قانون، مذہبی اور سیاسی لوگ اس پر بات کرنے سے بھاگتے ہیں اور جو لوگ بحث سے بھاگتے ہیں وہ کمزور ہوتے ہیں یا پھر دال میں کچھ کالا ہوتا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ قرآن سے شادی کرانا کون سا اسلام ہے؟ حدود اور ناموس رسالت کے قوانین اسّی کی دہائی میں بنے تھے ان میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان میں تبدیلی کیوں نہیں ہو سکتی؟ کشمیر کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ وہاں جدوجہد آزادی چل رہی ہے لیکن دنیا اس بات کو قبول نہیں کرتی ، کیا کریں؟ جنرل مشرف کہہ رہے تھے کہ یہ باتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان بھارت سے امن چاہتا ہے۔
صدر نے بتایا کہ اتوار کو ان کی بھارت کے نئے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے فون پر بات ہوئی تھی اور انہوں نے انتہائی مثبت خیالات ظاہر کیے ہیں کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعہ حل کریں گے۔ صدر نے مزید بتایا کہ وہ سونیا گاندھی سے بھی فون پر بات کریں گے۔ کنوینشن سے کمانڈو وردی میں خطاب کے دوران صدر نے دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل پر بھی نکتہ چینی کی اور ان کا کہنا تھا کہ جو پاکستان ہر وہ فیصلہ کرے گا جو اس کے مفاد میں ہو گا اور اس سے دولت مشترکہ کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ وہ دولت مشترکہ کی کوئی شرط قبول نہیں کریں گے۔ واضع رہے کہ دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کے اعلان کے ساتھ تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈان میکنن کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان پر نظر رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ جنرل مشرف سترہویں آئینی ترمیم کے مطابق رواں سال کے آخر میں وردی اتاریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||