’خفیہ امریکی آپریشنز پر غور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے سیکورٹی مشیروں نےخفیہ ادارے سی آئی آے اور امریکی فوج کو پاکستان میں خفیہ آپریشن کرنے کا اختیار دینے کے معاملے پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کےمطابق جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس میٹنگ میں امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی، وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس سمیت سیکورٹی کے اعلی مشیروں نے شرکت کی۔ اخبار کے مطابق اس میٹنگ میں پاکستانی سرزمین پر سی آئی اے اور امریکی فوج کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشگردوں کے خلاف جارحانہ مگر خفیہ کارروائی کرنے پرغور کیا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی سیکورٹی مشیروں کی میٹنگ اس پس منظر میں ہو رہی ہے جب القاعدہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے بعد پاکستان میں کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور پاکستان کے سکیورٹی ادارے ان کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ اس میٹنگ میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اٹھارہ فرروی کو ہونے والے انتخابات پر بھی غور کیا گیا۔ امریکی سیکورٹی مشیروں کی اس میٹنگ میں کئی مشیروں کا موقف تھا کہ اس وقت پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں اور انہیں امریکی فوج اور سی آئی اے کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کاررائیوں کی کھلی چھٹی دینے پر اعتراض نہیں ہوگا۔ رپورٹ کےمطابق اس میٹنگ میں پاکستان میں آپریشنز سےمتعلق معاملات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس میٹنگ میں شریک لوگوں نے آن دی ریکارڈ کچھ کہنے سے انکار کیا۔
امریکہ نے پاکستانی قبائیلی علاقوں میں امریکی کارروائی سےمتعلق ابھی تک صدر مشرف کو کوئی تجویز نہیں دی ہے۔ امریکہ کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی امریکی تحفظات پر زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھیں گے۔ امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں تک اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔ایک امریکی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیو یارک ٹائمز کو بتایا:’شدت پسند قوتیں کئی سالوں تک افغانستان پر توجہ دینے کے بعد اب افغانستان سے بھی بڑے انعام، پاکستان پر اپنی توجہ مرکوز کر چکی ہیں۔‘ اس وقت پچاس امریکی فوجی پاکستانی سر زمین پرموجود ہیں اور اگر سی آئی اے کو پاکستان میں آپریشنز کی اجازت دے دی گئی تو وہ امریکی فوج کی سپیشل آپریشن کمانڈ کی مدد حاصل کر سکی گی۔
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس جو اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے، کچھ ہفتے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ القاعدہ نے اپنی توجہ پاکستان پر موکوز کر لی ہے۔ ماضی میں عمومی طور پر امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنے سے باز رہا ہے اور القاعدہ کے رہنماؤں پر اکا دکا حملوں کےعلاوہ اس نے پاکستانی علاقے میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہے۔امریکی ذرائع مانتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی ایجنسی باجوڑ کے ڈمہ ڈولا میں ایمن الظہوری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ امریکہ فوجی عہدیدران اور سفارت کار اس بات کو اب بھی مانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی فوج نے آپریشنز کیےتو اس سے نامقبول صدر مشرف پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا اور پاکستانی فوج میں بھی امریکہ کے خلاف نفرت بڑھےگی اور شدت پسند مضبوط ہوں گے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان اپنے قبائلی علاقوں پر کنٹرول بڑھائے‘13 January, 2007 | آس پاس ’پاکستان کی سرپرستی حاصل تھی‘02 December, 2007 | پاکستان ’اسامہ کا سراغ کھو چکے ہیں‘14 March, 2005 | پاکستان وانا آپریشن بند کیا جاۓ، وکلاء26 March, 2004 | پاکستان ’شدت پسندوں کا صفایا کر دوں گا‘24 May, 2004 | پاکستان وزیرستان آپریشن کے خلاف مظاہرے12 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||