سپن بولدک: دو افغان سپاہی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے سرحدی علاقے سِپن بولدک میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں افغان پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ سِپن بولدک سے آنے والی اطلاعات کے مطابق افغان پولیس کی ایک گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک پاک افغان سرحد کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ہے، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں ۔ پاکستانی سرحدی علاقے چمن میں تعینات اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ایک اور واقعہ میں ایک ٹریکٹر ٹرالر بارودی سرنگ سے ٹکرایا ہے، جس سے ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔ تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ بلوچستان میں بدامنی ادھر گزشتہ دو دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارودی سرنگ کے دھماکے اور نامعلوم افراد کے حملے سے ایک شخص ہلاک اور فرنٹیئر کور کے تین اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بختیار آباد میں فرنٹیئر کور کے لیے پانی لانے والا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا، جس سے تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح لورالائی اور کوہلو کی
اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلفون پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ چماولنگ کا علاقہ کوئلے کی پیدوار کے حوالے سے مشہور ہے، جہاں کافی عرصہ سے کشیدگی رہی اور پھر مقامی قبائل کے مابین تصفیہ کے بعد کوئلے کی پیداوار ممکن ہو سکی تھی۔ لیکن نواب خیر بخش مری کے حمایتی قبائل اب بھی اس منصوبے کے خلاف ہیں۔ کاہان سے بڑی آبادی گزشتہ دو سال سے جاری مبینہ فوجی کارروائی کے دوران نقل مکانی کر گئی تھی، لیکن بعد میں یہ لوگ اپنے علاقے کی طرف آتے جاتے رہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس علاقے سے لوگوں نے سبی اور دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ |
اسی بارے میں کوہلو: ’آپریشن اور گرفتاریاں جاری‘09 December, 2007 | پاکستان کوہلو میں فوجی آپریشن کا دعوٰی24 February, 2007 | پاکستان کوہلومیں دھماکہ، 3 فوجی ہلاک30 July, 2006 | پاکستان سپن بولدک میں احتجاجی مظاہرہ18 January, 2006 | آس پاس افغانستان: دو مشتبہ طالبان ہلاک04 October, 2004 | آس پاس سپن بولدک میں ٹرک نذر آتش28 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||