کوہلو میں فوجی آپریشن کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مری قبیلے کے لوگوں نے دعوٰی کیا ہے کہ کوہلو کاہان روڈ پر واقع چار دیہاتوں میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسی سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر ان دعوووں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بلوچستان کے ضلع کوہلو سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی جاتی۔ مری اتحاد کے ترجمان احمد دین مری نے کہا ہے کہ تین روز سے کوہلو کاہان روڈ پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ احمد دین مری کے مطابق اس کارروائی میں کل انتالیس افراد ہلاک اور تینتالیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ تراسی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں فوجی چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ احمد دین مری نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ان کے علاقے کا دورہ کریں اور حالات سے خود آگاہی حاصل کریں۔ اس بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ سنیچر کو متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں جو کچھ ہورہا ہے سب بین الاقوامی پالیسیوں کا ہی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہلو میں حالات اس وقت خراب ہوئے جب صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے دوران راکٹ داغے گئے اور پھر ایک جنرل کے ہیلی کاپٹر پر حملہ کیا گیا جس میں جنرل کو گولی لگی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد حالات الجھتے گئے اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ اسے سلجھایا جائے۔ | اسی بارے میں کوہلو: ’فوجی کارروائی جاری ہے‘21 January, 2007 | پاکستان کاہان، سکیورٹی آپریشن شروع؟05 February, 2007 | پاکستان بلوچوں پرکیابیتی، فوجی آپریشن: 2 09 February, 2007 | پاکستان جالڑی کارروائی، 38 ہلاکتوں کا الزام16 February, 2007 | پاکستان ’مری میں 8 افراد ہلاک کئی زخمی‘21 February, 2007 | پاکستان ہربلوچ بغاوت کی راکھ سے مزاحمت پیدا ہوئی22 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||