BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 July, 2004, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپن بولدک میں ٹرک نذر آتش

News image
جنوبی افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں نامعلوم افراد نے چھ ٹرکوں کو آگ لگا دی ہے جبکہ اسی دوران فائرنگ سے ایک مشبہ شخص زخمی ہوا ہے۔

سپن بولدک کے منتظم حاجی فضل دین آغا نے بتایا ہے یہ ٹرک تاجروں کے تھے جو رات کے وقت اوزو سکی کے علاقے کے قریب کھڑے تھے اس دوران پندرہ سے بیس افراد موقع پر پہنچے اور اسلحے کے زور پر ٹرکوں کو ڈرائیوروں سمیت سڑک سے دور لے گئے۔ فضل دین نے بتایا ہے کہ حملہ آورطالبان گروہ سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے ڈرائیوروں سے رقم بھی چھینی ہے اور ٹرکوں کو آگ لگا دی ہے۔ فضل دین نے بتایا ہے کہ یہ ٹرک افغان اور پاکستانی تاجروں کے تھے اور ان میں پاکستانی ڈرائیور بھی شامل تھے لیکن ٹرکوں میں کسی قسم کا سامان لدا ہوا نہیں تھا۔

فضل دین آغا نے بتایا ہے اس واردات کے دوران ایک ڈرائیور پر فائرنگ کی گئی لیکن ڈرائیور محفوظ رہا اور طالبان کی آپس میں لڑائی شروع ہو گئی جس سے ان کا ایک آدمی جس کا نام محبوب بتایا گیا ہے زخمی ہوا ہے اور اس وقت سپین بولدک کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل قندھار میں امریکی اڈے کے لیے لے جانے والے آئل ٹینکر پر چمن میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کی تھی لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔تیل کے ٹینکروں پر پہلے بھی دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں۔

سین بولدک میں تاجروں کے ٹرکوں پر حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اس بارے میں جب فضل دین آغا سے پوچھا کے طالبان کی دشمنی تو حکومت کے ساتھ ہے تاجروں کی گاڑیوں کو آگ لگانے کا کیا مقصد ہے تو انھوں نے کہا کہ اس کا علم انھیں نہیں ہے تاہم ہو سکتا ہے کہ رقم چھیننے کے لیے انھوں نے یہ سب کیا ہو۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد