افغانستان: دو مشتبہ طالبان ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک کے قریب افغان اور امریکی فوجیوں کی مشترکہ کارروائی میں دو مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بیس کوگرفتار کیا گیا ہے جن میں چودہ زخمی بتائے گئے ہیں۔ سپین بولدک میں سرحدی امور کے انچارج عبدالرازق نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ افغان فوجیوں نے مشتبہ طالبان کے ایک گروہ کو سپینکئ کے مقام پر گھیرے میں لیا تھا۔ سپینکئ سپین بولدک سے بیس کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے۔ عبدالرازق نے بتایا ہے کہ افغان فوجیوں نے مشتبہ طالبان کو گھیرے میں لینے کے بعد امریکی فوجیوں کو طلب کیا ہے جنہوں نے اس علاقے میں بمباری کی ہے۔ اس بمباری کے بعد علاقے سے دو لاشیں ملی ہیں جبکہ بیس مشتبہ طالبان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں چودہ زخمی ہیں۔ ان گرفتار مشتبہ طالبان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یہ کارروائی رات گئے تک جاری رہی۔ ادھر طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسی علاقے میں امریکی فوجیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے اور امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ عبدالرازق نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی اور بتایا کہ امریکی یا افغان فوجیوں کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے پاک افغان سرحد پر ان دنوں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی جانب بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ نیم فوجی دستوں کی چوکیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق افغانستان کی جانب سرحدی فوجیوں نے امریکی فوجیوں کے ساتھ گشت میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ مشتبہ افراد کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات نو اکتوبر کو ہوں گے جبکہ ان دنوں ووٹرز کے اندراج کا مرحلہ جاری ہے۔ ادھر افغانستان کے علاوہ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مشتبہ طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ ووٹ کے لیے کارڈ بنانا اور ووٹ دینا غیر شرعی ہیں اور ان میں کسی بھی حوالے سے شرکت کرنے والے کو خطرناک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اگر یہاں نہیں تو وہ افغانستان میں ضرور بدلہ لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||