بلوچستان: جلسے، بائیکاٹ اور سردی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں انتخابات کا نقشہ اب کسی حد تک ابھر کر سامنے آ رہا ہے جہاں ایک جانب دیواروں پر پوسٹر اور بینر لگنا شروع ہو گئے ہیں تو دوسری جانب انتخابات کے حوالے سے ریلیاں اور جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور قوم پرست جماعتوں کے بائکاٹ کی وجہ سے بلوچستان میں ووٹ ڈالنے کی شرح کافی کم ہو سکتی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے امیدوار اور ان کے قائدین مختلف مقامات پر انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں اور جوڑ توڑ کا عمل بھی جاری ہے۔ کئی امیدواروں کودوسرے امیدواروں کے حق میں بٹھایا جا رہا ہے اور قبائلی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں امیدوار بااثر افراد (میڑھ) لے کر لوگوں کے ہاں جا رہے ہیں تاکہ ان کی حمایت اور ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ بلوچستان کے جو انتخابی حلقے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں ان میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے دو سو چھیاسٹھ بھی ہے۔ یہاں سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے اور مسلم لیگ قائد اعظم کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لینے والے اپنے چھوٹے بھائی عبدالرحمان جمالی کی حمایت کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے مد مقابل ایک طرف مسلم لیگ قائد اعظم سے ہی تعلق رکھنے والے ظہور کھوسہ ہیں اور دوسری جانب ان کے خاندان سے ہی تعلق رکھنے والے میر تاج محمد جمالی ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
جمالی خاندان کو اس وقت یہ فکر لاحق ہے کہ اگر عبدالرحمان جمالی اور تاج جمالی دونوں ہی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو ان کا ووٹ بینک تقسیم ہو جائے گا اور آزاد امیدوار ظہور کھوسہ انتخاب جیت سکتے ہیں۔ اس لیے خاندانی سطح پر ایک دوسرے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ان کے حق میں بیٹھ جائیں لیکن نہ تو تاج جمالی راضی ہو رہے ہیں اور ناں ہی عبدالرحمان جمالی قائل ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ اس وقت شدید اختلافات کا شکار ہے جہاں ضلعی سطح پر جماعت کے امیدوار اپنی جماعت کے امیدواروں کے خلاف ہی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ گروپ اپنے آپ کو نظریاتی گروپ کہلواتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ صوبائی قیادت نے طالبان کی حمایت سے نہ صرف ہاتھ کھینچ لیا بلکہ ان کے خلاف بیان بازی کی ہے اور اس بارے میں چار صفحات پر مبنی ایک پیمفلٹ جاری کیا گیا ہے۔ جماعت کی صوبائی قیادت نے تین اضلاع کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کااعلان کر رکھا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ مخالف دھڑے کے صرف ان چند ارکان نے صوبائی قیادت کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا ہے جن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
ادھر جماعت اسلامی اور قوم پرست جماعتوں نے بلوچستان سے انتخابات کے بائکاٹ کے لیے احتجاجی مہم شروع کر دی ہے اور کوئٹہ شہر میں یہ اعلان بھی کیے گئے ہیں کہ آٹھ جنوری کو ووٹ ڈالنے کوئی نہ جائے۔ مبصرین کے مطابق شمالی اور مرکزی بلوچستان میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح جنوبی بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتیں، مثلاً بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی، بائکاٹ کے حوالے سے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روک سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر بلوچ تنظیمیں جیسے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، بلوچ خواتین پینل، بلوچ بار ایسوسی ایشن وغیرہ نے بھی ان انتخابات سے صرف بائکاٹ ہی نہیں بلکہ انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے اور بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خود کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ بلوچ انتخابات میں حصہ نہ لیں اور کوئی بھی ووٹ ڈالنے نہ جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں آخر دسمبر کے بعد شدید سردی کی لہر شروع ہو جاتی ہے اور تعلیمی اداروں کی چھٹیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ گرم علاقوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس لیے آٹھ جنوری کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے بائکاٹ اور شدید سردی کی لہر کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم ہو سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل14 December, 2007 | پاکستان جے یو آئی (س) نے بھی بائیکاٹ کردیا14 December, 2007 | پاکستان جے یو آئی: امیدواروں کا اعلان24 November, 2007 | پاکستان کوئٹہ:ایم ایم اے، الگ الگ مظاہرے16 November, 2007 | پاکستان ’اے پی ڈی ایم سے الگ ہو جائینگے‘26 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||