BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 December, 2007, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عوام کی غلامی ختم کریں گے‘

بینظیر
پی پی پی پاکستان کی سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے: بینظیر
سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ’خوف کی حکمرانی‘ اور ’عوام کی غلامی‘ قائم رکھنے کے لیے عوام دشمن قوتیں نہیں چاہتیں کہ عوام کو طاقت ملے اور وہ حاکم بنیں۔

بدھ کو پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام دشمن قوتیں نہیں چاہتیں کہ عوام ملک کے حاکم بنیں اس لیے بار بار جمہوری حکومتوں کو ہٹا کر غیرجمہوری حکومتیں مسلط کی گئیں۔

پشاور میں کیبل آپریٹر کی دکان کے باہر بدھ کی علی الصبح ہونے والے بم دھماکے اور اس عید الاضحیٰ کے پہلے روز صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ کے گاؤں شیرپاؤ کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش بم حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’بم دھماکے ایک سازش ہیں تاکہ لوگوں کو غلام بنایا جائے۔‘

ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کے اردگرد غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کو جانے والی تمام سڑکوں کو صبح ہی سے آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا تھا جبکہ اردگرد بازار بھی بند کرائے گئے تھے۔

اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے کے لیے متعدد حفاظتی دروازے (واک تھرو گیٹ) نصب کیے گئے تھے اور بین الاقوامی معیار کے کرکٹ گراؤنڈ کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے جلسہ میں حاضرین کی تعداد منتظمین کی توقعات سے کہیں کم رہی۔ گراؤنڈ میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیوں کا بندوبست کیا گیا تھا تاہم کرسیوں کی بہت بڑی تعداد خالی پڑے رہنے پر پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو کی تقریر سے پہلے خالی کرسیوں کو الٹا کر دیا گیا۔

جلسہ میں کم حاضری کا ذکر کیے بغیر بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں جلسہ شہر کے اندر کیا کرتے تھے لیکن اس دفعہ شہر سے دور کرنا پڑا جہاں شہریوں کا پہنچنا مشکل تھا۔‘ یاد رہے کہ ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم شہر کے اندر ہی واقع ہے۔

 ملک تب ہی مضبوط ہوگا جب عوام کا پیٹ خالی نہ ہو، استحصال سے پاک معاشرہ ہو جس میں امید اور ترقی کی روشنی ہو اور خوف کے اندھیرے چھٹ جائیں۔
بینظیر بھٹو
بینظیر نے کہا کہ ملک کو سنگین خطرات درپیش ہیں جن کے بارے میں پشاور کے عوام سے زیادہ کون جانتا ہوگا ۔ جب سے طالبان کی حکومت افغانستان میں ختم ہوئی اور وہ تورا بوڑا کے راستے پاکستان داخل ہوئے تب سے پاکستان میں بدامنی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک میں بعض سیاسی جماعتیں ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے لڑاتی ہیں اور بعض ایک فقہ کے لوگوں کو دوسرے فقہ سے۔ ’ لیکن پی پی پی کا پیغام گولی کا نہیں بلکہ امن اور یکجہتی کا پیغام ہے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ملک تب ہی مضبوط ہوگا جب عوام کا پیٹ خالی نہ ہو، استحصال سے پاک معاشرہ ہو جس میں امید اور ترقی کی روشنی ہو اور خوف کے اندھیرے چھٹ جائیں۔

نام لیے بغیر بعض بین الاقوامی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کی معلومات کے مطابق پی پی پی پاکستان کی سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) دوسری بڑی مقبول جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں آج پشاور آئی ہوں اور میاں نواز شریف کل یہاں آئیں گے۔ ہم دونوں کا یہی مطالبہ ہے کہ ملک میں منصفانہ انتخابات ہوں تاکہ ہمارے امیدوار اسمبلیوں میں پہنچ سکیں، قانون سازی کرسکیں اور قائدِ اعظم کی خواب کے مطابق اس ملک کی عوام کو آزادی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق مل سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی پی پی امن میں یقین رکھتی ہے اس لیے اس کے دورِ حکومت میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ جنرل یٰحیٰٰ کے وقت مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا تب بھی پی پی پی اقتدار میں نہیں تھی، جنرل ضیاء کے زمانے میں سیاچین گلیشیئر سے ہاتھ دھونے پڑے تب بھی پی پی پی حکومت میں نہیں تھی۔ اور کارگل کی جنگ کے دوران بھی ہم حکومت میں نہ تھے اور اب جبکہ لڑائی ہو رہی ہے ہم اب بھی حکومت میں نہیں۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ پی پی پی اپنے دورِ حکومت میں عوام کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور اُن کے حقوق اور آزادی کی پاسداری کرتی ہے۔ اسی لیے پیپلز پارٹی کے زمانے میں نہ تو طلباء تنظیموں پر اور نہ ہی مزدور یونینوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔

فائل فوٹودو ہزار سات
سندھ کے لئے تشدد اور آفات کا سال
فضل الرحمان جمعیت اختلافات
بوچستان میں اختلافات شدید تر ہو گئے
ق لیگ کے کیمپ سے
’عام آدمی کا مسئلہ سپریم کورٹ نہیں‘
مولانا فضل الرحمانہر طرف سے مشکل
سرحد میں بھی شدید اندرونی چپقلش کا سامنا
آج کا پاکستانآج کا پاکستان
کرزئی کی آمد، حکومتی وغیر حکومتی جلسے
’انتظامات نہیں ہیں‘
مخلف تنطیموں کا آئندہ انتخابات پر عدم اطمینان
فضل الرحمان مولانا کی مشکلات
مولانا فضل الرحمن کو سخت مقابلے کا سامنا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد