شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | انٹیلیجنس کی رپورٹ کی کاپی بی بی سی کو ملی ہے |
پاکستان کے ایک خفیہ ادارے کے مطابق سوات میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف شدت پسندوں نے خودکش حملہ آوروں کا ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔ بی بی سی کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویز کے مطابق اس گروپ نے فوجی تنصیبات، فوجی افسروں اور دوسری اہم عمارتوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور یہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں فوجی تنصیبات کے علاوہ آرمی پبلک سکول کو بھی نشانہ بنائے گا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق شدت پسندوں کے رہنمامولانا فضل اللہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مٹہ پولیس اسٹیشن جو ایک ہفتہ قبل شدت پسندوں کے زیرکنٹرول تھا وہاں پر ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں مٹہ کے عثمان نامی رہائشی کی قیادت میں خودکش حملہ آوروں کا گروپ تشکیل دیا گیا۔ اس سرکاری دستاویز کے مطابق اس گروپ میں مبینہ خودکش حملہ آوروں کی عمریں سترہ سے بائیس سال کے درمیان ہے اور یہ لوگ اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں جب نیشنل کرائسز مینجمنٹ کے سربراہ اور وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایسی کسی پیش رفت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ ادھر اس سرکاری دستاویز میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس کے سربراہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اہم سرکاری تنصیبات کے اردگرد حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں۔ حالیہ مہینوں میں وزارت داخلہ اور دیگر انٹیلیجنس اداروں نے مبینہ خودکش دستوں کے بارے میں اس طرح کی رپورٹیں دی تھیں جو صحیح ثابت نہ ہوئیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران راولپنڈی میں فوج پر پانچ خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی اور فوج کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ساٹھ سے زائدافراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ ان حملوں کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ |