مدرسہ دھماکہ،تین افراد حراست میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ قلعہ سیف اللہ میں واقع ایک مدرسے میں دھماکے سے چھ افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں ایک اہم ملزم بھی شامل ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ایک سو چالیس کلومیٹر دور شمال میں ہونے والے اس دھماکے سے چھ طالب علم ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔ ضلعی پولیس کے مطابق یہ دیسی ساختہ بم تھا اور جب اسے ایک بچے نے اٹھایا تو وہ پھٹ گیا اور اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہے اور اب تک تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں ایک اہم ملزم شامل ہے جس پر شک ظاہر کیا گیا ہے کہ اس نے مدرسے میں قیام کیا تھا۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی کوئی واضح صورتحال سامنے آئے گی۔ قلعہ سیف اللہ کے پولیس افسر آصف غلزئی نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق رات ایک طویل قد کا لڑکا مدرسے میں ٹھہرنے آیا تھا جو خود کو پاگل ظاہر کر رہا تھا اور جاتے جاتے مدرسے میں بم چھوڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عمریں پندرہ سے بیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے مقامی صحافی نظام الدین نے بتایا ہے کہ اس واقعہ کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ قلعہ سیف اللہ بلوچستان کا ایک پرامن علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں اس طرح کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ | اسی بارے میں مدرسے میں دھماکہ، چھ طالبعلم ہلاک03 December, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارودی سرنگ کا دھماکہ01 December, 2007 | پاکستان مدرسےمیں ’دھماکے‘ 30 ہلاک19 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں جسم فروش بچے18 November, 2007 | پاکستان راستے کھل گئے، طلباء مدرسے میں21 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری04 November, 2007 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||