105 خواتین کی نامزدگی منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشتستوں کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے جس کے دوران ایک سو پانچ خواتین امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ چار کے مسترد کردیئے گئے۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو الیکشن کمشنر اختر حسین کی سربراہی میں ایک سو نو خواتین کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں چار کے علاوہ باقی تمام امیدواروں کےنامزدگی کے کاغذات منطور کرلیے گئے۔ ان کے بقول جمیعت علماء اسلام (ف) کی خاتون امیدوار حنا آمین، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی رابعہ خلیل جبکہ تحریک انصاف کی فرح ناز کے کاغذات کو اس لیے مسترد کردیا گیا کیونکہ وہ صوبائی اسمبلی کے لیے مطلوبہ پچیس سال عمر کے معیار پر پورا نہیں اتر رہی تھیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سے تعلق رکھنے والی نور سحر کے کاغذات کے ساتھ ووٹر لسٹ سرٹیفیکیٹ کو منسلک نہیں کیا گیا تھا جسکی بناء پر انکے نامزدگی کے کاغذات منظور نہیں ہوئے۔ دوسری طرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ختم ہونے کے ایک روز بعد بھی صوبائی الیکشن کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انکے پاس ابھی تک صوبہ سرحد کے تمام اضلاع کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر اختر حسین کا کہنا تھا کہ صوبہ بھر سے آہستہ آہستہ انکے پاس رپورٹیں پہنچ رہی ہیں اور امید ہے کہ بدھ کے روز تک تمام تفصیلات دستیاب ہوسکیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں قومی اسمبلی کی آٹھ عام نشتستوں کے لیے اٹھاسی جبکہ صوبائی اسمبلی کی گیارہ نشستوں کے لیے ایک سو سینتالیس امیدواروں نے نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں اقلیتوں کی تین نشتسوں کے لیے چھتیس امیدوار سامنے آئے ہیں۔ صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز، پیپلز پارٹی شیر پاؤ، مسلم لیگ، مسلم لیگ قائداعظم اور متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیےنامزدگی کے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے قائدین میں سے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد حلقہ این اے نوشہرہ پانچ، پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے آٹھ چارسدہ اور صوبائی اسمبلی کے لیے پی ایف چار چارسدہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کی دو دو نشتوں سے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔اسفند یار ولی خان صوابی اور چارسدہ جبکہ مولانا فضل الرحمن بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سے انتخاب لڑیں گے۔ مسلم لیگ صوبہ سرحد کے صدرانجنئر امیر مقام نے این اے چار پشاور، این اے اکتیس شانگلا اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایف گیارہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقوں سوات، شانگلا، ہنگو اور قبائلی علاقے کرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کے اعلان کے بعد منگل کو ان علاقوں میں امیدواروں کی جانب سے کاغذات جمع کرانے کا سلسلہ جاری رہا۔ | اسی بارے میں عام انتخابات آٹھ جنوری کو20 November, 2007 | پاکستان انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا:شوکت24 November, 2007 | پاکستان ’امیدوار کاغذات جمع کرائیں‘22 November, 2007 | پاکستان انتخابات:’حصہ لینا نہ لینا برابر ہے‘25 November, 2007 | پاکستان نواز اپوزیشن کی اپیل پر واپس26 November, 2007 | پاکستان بینظیر کا الیکشن کمشن کو خط26 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||