BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی معطلی کا خدشہ
ایمرجنسی کیخلاف احتجاج
معطلی کا فیصلہ ایک دھچکہ ثابت ہوگا: نگراں وزیراعظم
دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس آج یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے نتیجے میں اس کی رکنیت معطل کیے جانے پر غور ہو رہا ہے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم نے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل مشرف سے ایک بار پھر ایمرجنسی ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہےکہ انہوں نے جنرل مشرف کو ایمرجنسی نافذ کرنے سے پہلے بھی اس اقدام سے باز رہنے کی تلقین کی تھی اور گزشتہ رات بھی ٹیلی فون پر ان سے ایمرجنسی جلد سے جلد ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے بقول جنرل مشرف نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ہنگامی حالت کے جلد خاتمے کی پوری کوشش کریں گے۔

گورڈن براؤن نے یہ بات دولت مشترکہ ممالک کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کے لیے کمپالا جانے سے قبل لندن میں کہی۔

ادھر تریپن ممالک کی تنظیم کامن ویلتھ کے وزرائے خارجہ آج یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں مل رہے ہیں جہاں توقع ہے کہ پاکستان کی رکنیت معطل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔

تنظیم نے بارہ نومبر کو لندن میں منعقدہ غیر معممولی اجلاس میں پاکستان کو بائیس نومبر تک کی مہلت دیتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے فوجی صدر بائیس نومبر تک فوجی وردی اتار دیں، ایمرجنسی ختم کرکے آئین بحال کریں اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائیں اور میڈیا پر سے پابندیاں ختم کی جائیں۔

جمہوریت کی راہ پر واپس لانے کے لیے برطانیہ ہر ممکن تعاون کرے گا: گورڈن براؤن

گزشتہ روز پاکستان کے نگراں وزیراعظم محمدمیاں سومرو نے کہا تھا کہ دولت مشترکہ سے ان کے ملک کی معطلی کا فیصلہ پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے تنظیم سے مطالبہ کیا تھا کہ فی الحال وہ کوئی بھی ایسا فیصلہ مؤخر کردیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن نیوز کے مطابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ وہ جنرل مشرف کے ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں جو انہوں نے ملک کو جمہوریت کی راہ پر واپس لانے کے لیے کیے ہیں، مثلاً انتخابات کی تاریخ کا اعلان وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر واپس لانے کے لیے برطانیہ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

دولتِ مشترکہ کا کہنا ہے کہ جنوری میں عام انتخابات کا انعقاد خوش آئید ہے مگر ایمرجنسی نہ اٹھائے جانے، عدلیہ اور لوگوں کے آئینی حقوق کی عدم بحالی کی صورت میں ان انتخابات کی ساکھ متاثر ہوگی۔

ایمرجنسی کے خاتمے، عدلیہ، میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں کی آزادی کے لیے مشرف حکومت پر اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کا سخت دباؤ ہے۔اگر دولت مشترکہ کی جانب سے پاکستان کی رکنیت معطل کر جاتی ہے تو اس سے نہ صرف جنرل مشرف کی حکومت کی سبکی ہوگی بلکہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کچھ مراعات سے بھی محروم ہوجائے۔

اسی بارے میں
دولتِ مشترکہ:22 نومبر تک مہلت
12 November, 2007 | پاکستان
دولت مشترکہ، معطلی برقرار؟
05 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد