ایک سو بیالیس افغان گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پولیس نے 142 افغانوں کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ چمن میں پولیس انسپکٹر گل محمد نے بتایا ہے کہ پاک-افغان سرحد پر دوستی گیٹ سے کوئی تین فرلانگ دور بڑی تعداد میں افغان پاکستان میں داخل ہو رہے تھے جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افغانووں میں زیادہ تعداد مزدوروں کی ہے اور بیس کے لگ بھگ ازبک قبیلے کے لوگ شامل ہیں۔ پولیس انسپکٹر نے کہا کہ ان لوگوں کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سفری دستاویز تھے۔ پولیس نے فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان کو جیل بھیج دیا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے ساتھ افغانستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں آئے روز افغانوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پاک-افغان سرحد کے دونوں جانب آباد قبیلے کے لوگ تقسیم ہیں اور محنت مزدوری کے علاوہ رشتہ داروں سے ملنے ایک دوسرے کے ملک آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اس کے لیے دونوں جانب سے اجازت نامے جاری کرانا ضروری ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے سرحد پر سختی کر دی گئی ہے جس سے آمدو رفت میں لوگوں کو دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ | اسی بارے میں ’افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا‘30 July, 2007 | پاکستان رجسٹرڈ افغانوں کے لیے مزید وقت02 August, 2007 | پاکستان کابل جرگہ: اراکین پارلیمان غیر آمادہ 05 August, 2007 | پاکستان اراضی کا تنازعہ، پاک افغان راستہ بند05 August, 2007 | پاکستان سیاہ اور سفید طالبان - ایک ہی سکے کے دو رُخ14 August, 2007 | پاکستان افغان مہاجروں کو مہلت پر احتجاج26 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||