افغان مہاجروں کو مہلت پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں مقامی لوگوں نے پاکستان کے سب سے بڑے افغان مہاجر کیمپ جلوزئی کو خالی کرانے کے لیے دی گئی حکومتی مہلت میں مجوزہ توسیع کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا ہے۔ یونین کونسل ڈاک بیسود کے نائب ناظم محبوب علی کی قیادت میں منعقدہ اس مظاہرے میں گرد و نواح کے دیہاتوں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت کی طرف سے جلوزئی کیمپ کو بند کرائے جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کی جائے۔ ڈاک بیسود کے ناظم محبوب علی نے بی بی سی کو بتایا کہ جلوزئی کیمپ کے مہاجرین گزشتہ پچیس سال سے ان کی زمینوں پر قابض ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے بھی تاحال ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے کیمپ بند کرنے کے لیے دی گئی مہلت میں توسیع کی تو علاقے کے عوام اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ مقامی صحافی زاہد خٹک کے مطابق مظاہرین نے کچھ دیر کےلیے چراٹ سڑک بھی احتجاجاً بند کردیا تاہم انتظامیہ کی طرف سے یقین دہانیوں کے بعد سڑک کھول دیا گیا۔ 1980 سے قائم اس کیمپ کو بند کرانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم کیمپ کی بیشتر آبادی علاقے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ رمضان المبارک اور افغانستان میں آنے والی سخت سردی کے پیشِ نظر اس مہلت میں توسیع کی جائے۔ ادھر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپ کو خالی کرانے کے لیے دی گئی مہلت میں توسیع کی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں رجسٹرڈ افغانوں کے لیے مزید وقت02 August, 2007 | پاکستان ’افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا‘30 July, 2007 | پاکستان ’واپس گئے تو انتقام کا نشانہ بنیں گے‘19 June, 2007 | پاکستان ’ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم افغان ہیں؟‘30 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||