BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: ’ہر ضلع میں انتخاب وقت پر‘

شمس الملک نے پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سے ملاقات کی
صوبہ سرحد کے نگران وزیراعلیٰ شمس الملک نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ سرحد کے کچھ اضلاع میں کشیدگی کے باعث عام انتخابات ملتوی کئے جاسکتے ہیں۔

پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پشاور پریس کلب کے عہدیداروں اور سنئیر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کی طرف سے سرحد کے جنوبی اضلاع اور سوات میں عام انتخابات کے التواء سے متعلق خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ کم سے کم اس موقع پر انتخابات کے التواء کی بات کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے اور ویسے بھی ہماری کوشش ہے کہ ان علاقوں میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ التواء کی ضرورت ہی نہ پڑیں۔‘

شمس الملک نے بتایا کہ صوبہ سرحد اور بالخصوص ان اضلاع میں جہاں پر کشیدگی ہے وہاں پر پرامن اور صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن اضلاع میں کشیدگی ہے وہاں پر امن کمیٹیاں بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے اور اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی مدد بھی حاصل کی جارہی ہے تاکہ وہاں حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی کو دوسرے صوبوں تک پھیلنے کےلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شمس الملک نے بتایا کہ صوبے میں اگر سکیورٹی کے مسائل پیدا نہیں ہوتے تو کسی سیاسی جماعت کو جلسے جلوسوں سے نہیں روکا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بندوبستی علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے جو واقعات ہو رہے ہیں ان کو روکنے کےلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ نگران وزیراعلی نے اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ وہ ان چیزوں پر بات نہیں کرنا چاہتے جن کو وہ پائیہ تکمیل تک پہنچا نہیں سکتے۔

ملاقات میں صحافیوں کی نمائندگی پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض نے کی جبکہ اس موقع پر سنئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی، افتخار علی ، فیض الرحمان اور پریس کلب کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

پاکستان ڈائری
پاکستان کی تاریخ کچھ اور مانگ رہی ہے۔۔۔
مشرف’مقبولیت میں کمی‘
’مشرف صرف بیس فیصد لوگوں کے پسندیدہ لیڈر‘
ووٹربینظیر بھٹو کامقدمہ
تین کروڑ ووٹروں کے مقدمے کی سماعت
اسی بارے میں
میرعلی جھڑپ: افراد3 ہلاک
14 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد