BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 October, 2007, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمس الملک سرحد کے نگراں وزیر اعلیٰ

جمیعت علماء اسلام(ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں
صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی نے وزیراعلیٰ کے مشورے پر صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی ہے اور سابق صوبائی وزیر شمس الملک کو صوبے کا نگراں وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔

گورنر سیکٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر علی جان اورکزئی نے سابق چئرمین واپڈا اور سابق صوبائی وزیر شمس الملک کو صوبے کا نگران وزیراعلی مقرر کر دیا ہے اور وہ بہت جلد اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

شمس الملک نے بھی بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اپنے عہدے کا حلف اٹھا ئیں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ بطور نگران وزیر اعلی موجودہ حالات میں انکی ترجیحات کیا ہونگی تو انکا کہنا تھا کہ’میں نے اس بارے میں ابھی تک کچھ بھی نہیں سوچا ہے کیونکہ مجھے ایک گھنٹے قبل ہی پتہ چلا ہے کہ مجھے نگران وزیر اعلی مقرر کیا گیا ہے۔ میں حکومتی اہلکاروں اور لوگوں سے مل کر ہی اپنی ترجیحات متعین کرونگا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ موجود حالات میں کیا انہیں چیلنجز کا سامنا ہے تو شمس المک کا کہنا تھا کہ’ اس وقت ملک اور صوبے کی صورتحال بہت خراب ہے اور اس پر قابو پانا میرے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔‘

صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے شمس الملک پاکستان کے پانی اور بجلی کے ادارے واپڈا کے سابق چئرمین رہ چکے ہیں اور جنرل پرویز مشرف نے جب بارہ اکتوبر کو نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا تو اس وقت انہیں صوبہ سرحد کی کابینہ میں بطور وزیر مقرر کیا گیا تھا۔

شمس الملک صوبہ سرحد کے ایک متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ کالا باع ڈیم بنانے کی نہ صرف سخت حمایتی ہیں بلکہ جب بھی کالا باغ ڈیم کا ایشیو سامنے آتا ہے تو وہ اس موضوع پر منعقد ہونے والے سیمیناروں اور مذاکروں میں تکنیکی بنیادوں پر کالا ڈیم کو ملک کی توانائی اور آبپاشی کے لیے انتہائی اہم پراجیکٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کی دوپہر کو صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی نے وزیراعلیٰ کے مشورے پر صوبائی اسمبلی تحلیل کردی تھی۔

صوبہ سرحد کے سیکرٹری قانون شاہد نسیم چمکنی نے بی بی سی کو بتایا کہ گورنر نےوزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی طرف سے اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے بھیجے گئے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں اور انہوں نے اس کا باضابطہ نوٹفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ستائیس ستمبر کو پشاور میں ہونے والے اپوزیشن اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے آٹھ اکتوبر کوگورنر کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اے پی ڈی ایم کے اس فیصلے کا مقصد چھ اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے کا راستہ روکنا تھا تاکہ وفاق کی ایک اکائی کی عدم موجودگی میں صدارتی حلقہ انتخاب متاثر ہو لیکن اسمبلی صدارتی انتخاب سے چار روز بعد تحلیل ہوئی ہے۔

سرحد اسمبلی کی کو چھ اکتوبر سے قبل تحلیل نہ کرنے پر نہ صرف اے پی ڈی ایم بلکہ متحدہ مجلس عمل کی دو بڑی جماعتوں جمیعت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔اے پی ڈی ایم کے صوبائی قائدین نے مولانا فضل الرحمن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے چھ اکتوبر سے قبل اسمبلی تحلیل کرانے میں قصداً پس وپیش سے کام لیا جسکے نتیجے میں اسمبلی تحلیل نہ ہونے کا تمام فائدہ جنرل پرویز مشرف کو پہنچ گیا۔ تاہم جمیعت علماء اسلام اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے جماعت اسلامی سے سے تعلق رکھنے والے سپیکر بخت جہان خان نے اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کیخلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کو پیش کرنے کے موقع پر رولز کو معطل نہ کر کے اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچا لیا۔

فائل فوٹواپوزیشن کے استعفے
کیا استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟
گیلری اہم لمحوں کی تصاویر
پاکستان کی جاری سیاست کے اہم لمحات
شیخ رشید پارلیمان کے باہر سے
فاروق ستار کا تذبذب، شیخ رشید کی خوشی
محمود اچکزئی’حقِ حکمرانی‘
فوج اور جاسوسی اداروں کا کوئی کام نہیں: اچکزئی
اسی بارے میں
سرحد اسمبلی توڑنے کی سفارش
08 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد