BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی گروہوں میں تصادم، نو ہلاک

باڑہ ہلاکتیں: فائل فوٹو
باڑہ چھڑپوں میں اب تک بیسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق دو مذہبی شدت پسند تنظیموں کے مابین جھڑپوں اور ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے کے واقعہ میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعات اتوار کو تحصیل باڑہ کے علاقے برقمبر خیل میں اس وقت پیش آئے جب دو مذہبی تنظیموں ظریف اور نمدار گروپ کے حامیوں نے ایک دوسرے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کئے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو تصدیق کی کہ فائرنگ سے دونوں گروپوں کے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک نمدار گروپ کا ہے جبکہ پانچ افراد کا تعلق ظریف گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لڑائی میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ایک مارٹر گولہ سلام ملک دین خیل نامی ایک شخص کے گھر پر گرا جس سے وہاں موجود ایک خاتون اور دو بچے جان بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں جس سے اردگرد کے لوگ گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مارٹر گن اور راکٹ لانچروں سے اتنی سخت گولہ باری کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

سکیورٹی فورسز
باڑہ میں سکیورٹی کافی سخت ہے

آخری اطلاعات آنے تک فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے جاری تھے۔

دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے فریقین کے مابین فوری اور عارضی جنگ بندی کے لیے مقامی مشران اور ایجنسی کونسلرز پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگہ ممبران کے دونوں گروپوں سے ابتدائی مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ عارضی جنگ بندی کے لیے مزید بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ نمدار اور ظریف گروپ کے حامیوں کے مابین کافی عرصہ سے مسلکی اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ سے دونوں تنطیموں کے درمیان کئی بار خون ریز جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جس میں اب تک درجنوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں گزشتہ تین سالوں کے دوران مذہبی شدت پسندی میں بظاہر اضافہ ہوا ہے جس میں اب تک بیسیوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان تنظیموں کو کنٹرول کرنے کے لیے تاحال کوئی سنجیدہ اقدام دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
باڑہ میں بدستور کشیدگی
24 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد