مذہبی رہنما مفتی منیر شاکر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ ماہ تک سنٹرل جیل کراچی میں قید رہنے والے مذہبی رہنما مفتی منیر شاکر منگل کو پشاور میں اچانک منظر عام پر آگئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مفتی منیر شاکر نے بتایا کے گورنر سرحد کے حکم پر انہیں گزشتہ سال خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے مطابق جب جب انکی گرفتاری طویل ہوئی تو ان کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی جس کے نتیجے میں انہیں گزشتہ روز عدالت کے حکم پر کراچی جیل سے رہائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی قبائلی علاقے باڑہ میں امن چاہتے تھے اور اب بھی علاقے میں امن کے خواہاں ہیں تاہم ان کے بقول قبائلی علاقوں میں امن اسلام کے نفاذ سے ممکن ہے۔ انہوں نے باڑہ میں دو شدت تنظیموں لشکر اسلام اور انصار الاسلام کے مابین جاری جھڑپوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی۔ واضح رہے کہ مفتی منیر شاکر شدت پسند تنظیم لشکر اسلام سے وابستہ رہے ہیں۔ گزشتہ سال باڑہ میں مفی منیر شاکر اور ایک دوسرے مذہبی پیشواء پیر سیف الرحمان کے مابین مسلکی اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس پر دونوں مذہبی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف نجی طورپر قائم ایف ایم ریڈیو چینلز کے ذریعے سے بیان بازی شروع کی۔ بعد میں ان بیانات نے تشدد کی شکل اختیار کی اور دونوں کے حامیوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوئی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے علاقے میں امن قائم کرنے کےلئے مفتی منیر شاکر کو گرفتار کیا جبکہ ان کے مخالف پیر سیف الرحمان کو علاقہ بدر کردیا تھا۔ تاہم دونوں مذہبی رہنماوں کے حامیوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس میں اب تک ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں پشاور میں پی پی پی کا مظاہرہ06 September, 2006 | پاکستان مہاجرین کی منتقلی کے فیصلے پر ردِعمل29 May, 2007 | پاکستان باجوڑ ہلاکتوں سے تعلق نہیں: طالبان03 June, 2007 | پاکستان ’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘18 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||