 | | | ناپسندیدگی کے اعتبار سے بھی جنرل مشرف صدر بش کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں |
امریکہ کے ایک ادارے کی طرف سے کرائے گئے حالیہ سروے کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت پاکستان کے سب سے غیر مقبول سیاسی رہنماء ہیں۔ سروے کے مطابق القاعدہ کے اسامہ بن لادن کو بھی پاکستان میں صدر مشرف سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ ٹیرر فری ٹومارو نامی ادارے نے یہ سروے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقامی افراد کے ذریعے کرایا ہے۔ اس ادارے کے مشاورتی بورڈ میں حکمراں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند سینیٹر جان مکین اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابقہ رکن کانگریس لی ہملٹن شامل ہیں۔ یاد رہے کہ لی ہملٹن اس ٹیم کی قیادت کر رہے تھے جس نےگزشتہ برس وائٹ ہاؤس کے کہنے پر عراق پر ایک مطالعاتی رپورٹ تیار کی تھی۔ ٹیرر فری ٹومارو کے سروے کے مطابق پاکستان میں جنرل مشرف پسندیدگی کی شرح (اڑتیس فیصد) صرف امریکی صدر جارج بش سے زیادہ ہے۔ پسندیدگی کے اعتبار سے بےنظیر بھٹو (تریسٹھ فیصد) پہلے، نواز شریف (ستاون فیصد) دوسرے اور اسامہ بن لادن (چھیالیس فیصد) تیسرے نمبر پر ہیں۔ صوبہ سرحد میں اسامہ بن لادن کے لیے پسندیدگی کی شرح ستر فیصد ہے۔ بعض امریکی حکام کو شبہ ہے کہ القاعدہ کے سربراہ پاکستان کے اسی صوبے کے افغانستان سے ملحقہ علاقوں کہیں پناہ لیے ہوئے ہیں۔  | کون کتنا مقبول  سروے کے مطابق پاکستان میں جنرل مشرف پسندیدگی کی شرح (اڑتیس فیصد) صرف امریکی صدر جارج بش سے زیادہ ہے۔ پسندیدگی کے اعتبار سے بےنظیر بھٹو (تریسٹھ فیصد) پہلے، نواز شریف (ستاون فیصد) دوسرے اور اسامہ بن لادن (چھیالیس فیصد) تیسرے نمبر پر ہیں  کین بالن |
جبکہ ناپسندیدگی کے اعتبار سے جنرل مشرف تریپن فیصد شرح کے ساتھ صدر بش کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی تین چوتھائی تعداد القاعدہ اور طالبان کے پاکستان میں مشتبہ ٹھکانوں پر براہ راست امریکی کارروائی کے مخالف ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم حلیف پاکستان کے صرف انیس فیصد لوگ امریکہ کو پسند کرتے ہیں۔ آزادی کے ساٹھ سالوں میں بھارت کے ساتھ اگرچہ پاکستان کے تعلقات زیادہ تر کشیدہ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی پسندیدگی کی شرح امریکہ کے لیے پسندیدگی کی شرح سے دوگنی ہے۔ چھپن فیصد پاکستانیوں کا خیال تھا کہ دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ دراصل مسلمانوں کو قتل کرنے، ان کے تیل کے وسائل پر قبضہ کرنے اور دینِ اسلام کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ سروے میں شامل لوگوں سے جب کہا گیا کہ ان کے نزدیک اہم اہداف کونسے ہیں تو القاعدہ، طالبان اور شدت پسندوں کا خاتمہ اس فہرست میں سب سے نیچے تھا۔ زیادہ تر لوگوں نے آزاد عدلیہ، فری پریس، مضبوط معیشت اور مسئلہ کمشیر کے حل کو اپنی ترجیحات میں اوپر رکھا۔ ٹیرر فری ٹومارو کے صدر کین بالن کا کہنا ہے کہ پچھلے تین سالوں میں مسلم ممالک میں کرائی گئی ایسی تیئس رائے شماریوں میں سے پاکستان میں کرایا گیا سروے امریکہ مخالفت، اسامہ کی حمایت اور واحد اسلامی نیوکلیئر ملک کے موجودہ سربراہ کی غیر مقبولیت کے سبب سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔
|