BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وردی ہے، آمریت نہیں ہے‘

News image
’شدت پسندوں کے خلاف محض فوجی کارروائی ہی مسئلے کا حل نہیں‘
اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر ریان سی کروکر نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوجی وردی میں صدر کے ہوتے ہوئے بھی انہیں آمریت نہیں لگتی۔

جمعرات کے روز صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ آمریت والے ممالک میں رہے ہیں اور وہاں میڈیا اتنا آزاد نہیں ہوتا جتنا پاکستان میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف پاکستان کو حقیقی جمہوریت کی طرف لے جارہے ہیں اور اگر باوردی فوجی صدر عام انتخابات کرائیں تو اس میں انہیں کوئی تضاد بھی نہیں لگتا۔

امریکی سفیر نے بتایا کہ وہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کو ’مانیٹر، کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ سن دوہزار سات میں شفاف اور غیرجانبدارانہ بنیاد پر عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں بعض حزب مخالف کی جماعتیں جلد عام انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور امریکہ دو ہزار سات کی بات کیوں کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں قبل از وقت انتخابات پر اتفاق ہوجائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن دوہزار سات انتخابات کرانے کی آخری حد ہے۔

ایک اور سوال پر امریکی سفیر نے کہا کہ اگر عوام کے ووٹوں سے مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان کے باوجود جس طرح حکومت کام کر رہی ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

امریکی سفیر نے ایک سوال پر کہا کہ القاعدہ والے پسپائی پر ضرور ہیں لیکن کسی طور پر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ختم ہوگئے ہیں اور کسی وقت بھی وہ حملہ کرسکتے ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف محض فوجی کارروائی ہی مسئلے کا حل نہیں بلکہ متعلقہ علاقے میں اقتصادی اور سماجی ترقی بھی ضروری ہے۔ جس کے لیے انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے اندر آئندہ جون میں امریکہ کے تعاون سے پاکستان چھوٹے قرضہ جات فراہم کرنے کی ’سکیم‘ شروع کرے گا تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری مواد اور آلات پھیلاؤ کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نیٹ ورک ختم کرنے کے پاکستانی حکومت کے اعلان پر انہیں شک نہیں ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معلومات ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئی ہیں کہ ان کا یہ نیٹ ورک کتنا بڑا تھا اور کس کس کو کیا چیز انہوں نے دی ہے۔

پاکستان کو ایف سولہ اور بھارت کو ایف اٹھارہ لڑاکا طیارے دینے پر انہوں نے بتایا کہ ایف اٹھارہ طیارے فضائیہ والے استعمال نہیں کرتے بلکہ بحریہ میں استعمال ہوتے ہیں اور پاکستان نے ان مہنگے طیاروں کے بارے میں درخواست بھی نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد