BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 23:18 GMT 04:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (نواز) میں شمولیت

رکنِ قومی اسمبلی اختر خان کانجو
اختر خان کانجو نے اپنے فیصلے کا اعلان ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے لودھراں سے رکنِ قومی اسمبلی اختر خان کانجو نے پاکستان مسلم لیگ (نواز) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کا اعلان انہوں نے جمعرات کو پی ایم ایل (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی اور چودھری نثار علی خان کے ہمراہ مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

چودھری نثار نے اختر خان کانجو کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند روز میں حکمراں جماعت کے چوتھے رکنِ اسمبلی نے اُن کی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے شیخوپورہ سے بلال ورک، ملتان سے علی گیلانی اور خاتون رُکن شہزادی ٹوانہ حکمراں جماعت چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے مزید اراکینِ اسمبلی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کریں گے۔

جب اُن کو یاد دلایا گیا کہ ان کے رہنما نواز شریف نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر جانے والوں کو دوبارہ شامل نہیں کیا جائے گا، تو مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا اُن کی جماعت نے حکمتِ عملی مرتب کی ہے جس کے تحت اُن لوگوں کو پارٹی میں واپس لے لیا جائے گا جو جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کو تیار ہیں اور جو آئندہ صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کے امیدوار ہونے کی صورت میں اُہھیں ووٹ نہیں دینےدیں گے ۔

اختر خان کانجو مسلم لیگ نواز کے سابق رہنما صدیق خان کانجو کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہ ڈھائی سال پہلے پنجاب کے ضلع لودھراں سے مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور بعد میں حکمراں جماعت کے رہنما چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی سے اختلاف کی بنیاد پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند دوسرے اراکینِ اسمبلی کے ساتھ مل کر انہوں نے حکمراں جماعت میں فاروڈ بلاک بنایا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بغیر کسی شرط کے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں جنرل مشرف وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر نواز شریف اور شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا تو ملک بھر سے اس کے خلاف ردِعمل سامنے آئے گا جس کے لیے، اُن کے مطابق، اُن کی پارٹی نے حکمتِ عملی مرتب کی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
وکلا، ملک گیر تحریک پھر شروع
06 September, 2007 | پاکستان
مشرف کیخلاف پٹیشن منظور
06 September, 2007 | پاکستان
شہباز کی گرفتاری کی درخواست
06 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد