وجاہت مسعود
|  |
 | | | سیاسی بحران کے دوراہے پر نہیں، لائل پور کے چوک گھنٹہ گھر میں کھڑا کر دیا ہے |
پاکستان کے سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ (نواز) کے قائد نواز شریف نے دس ستمبر کو اسلام آباد واپس پہنچنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اُن کے حامی یقیناً اکیس برس قبل کے وہ مناظر دہرانے کو بیتاب ہیں جب ضیاالحق کے عہدِ حکومت میں پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے لاہور پہنچی تھیں۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ اُن دنوں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلٰی تھے۔ دس اپریل 1986 کو لاہور میں بینظیر بھٹو کے استقبال کا تقابل فروری 1979 میں ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی کی تہران آمد یا فروری 1986 میں فلپائن کی رہنما کوری اکینو کے برسرِاقتدار آنے سے کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں صدارتی انتخاب کی آمد آمد ہے۔ اس سال کے آخر تک عام انتخابات کا انعقاد بھی امکان میں ہے۔ عدالت عظمٰی کی واضح کایا کلپ سے دلچسپ آئینی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کی سیاسی طاقت روز بروز گہنا رہی ہے۔ ملک کے شمال مغربی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندوں کے ساتھ تصادم شدت اختیار کر رہا ہے۔ ملک کے مختلف سیاسی دھڑوں میں جوڑ توڑ اور صف بندیوں کی لحظہ بہ لحظہ بدلتی تصویر سے ملک میں سیاسی سرگرمیوں کی رفتار طوفانی درجے کو چھو رہی ہے۔ سیاسی صورت حال کی گھمبیرتا کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِس تمثیل کے مختلف مناظِر دوبئی، بیروت، لندن اور واشنگٹن جیسے دور دراز مقامات پر کھیلے جا رہے ہیں۔ دھماکہ خیز خبروں کی لین ڈوری بندھی ہے۔ کہیں انکشافات کیے جا رہے ہیں تو کہیں تردید ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف کے لب و لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا موجودہ حکومتی اور سیاسی بندوبست کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ اُدھر سرکاری ایوانوں میں ’تالا، دروازہ سب ٹھیک ہے‘ کا آوازہ باقاعدہ وقفوں سے سنائی دے رہا ہے۔ اگرچہ غلام گردشوں میں دوڑتے قدموں کی افراتفری سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ محل میں کُچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ سیاسی ہوا کا رُخ بدلتے ہی مسلم لیگ (ق) کے موسمی پرندوں نے پر پھڑپھڑانے شروع کر دیے ہیں۔ اب کوہ قاف سے محفوظ جزیروں کو اڑان کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ موجودہ سیاسی بُحران کی جڑیں تو بارہ اکتوبر 1999 کے فوجی اقدام میں پیوست ہیں لیکن اِس پر موجودہ برگ و بار صدر پرویز مشرف کی اِس خواہش سے نکلا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ صدر مشرف کے اِس ارادے سے متعدد قانونی اور سیاسی سوالات نے جنم لیا ہے۔ یہ امر اب راز نہیں رہا کہ صدر مشرف کو جلد ہی فوجی وردی اُتارنا ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ مرحلہ کب طے کیا جائے گا؟ صدارتی انتخاب سے پہلے یا صدارتی انتخاب کے بعد اور عام انتخابات سے قبل؟ ایک تیسرا امکان یہ ہے کہ صدر اپنی حسبِ منشا پارلیمنٹ وجود میں آنے تک فوجی اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیں گے۔ اِن تینوں امکانات کی اپنی اپنی مشکلات ہیں کیونکہ ان میں کسی کو بھی مکمل طور پر ملکی دستور کی رُوح سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوہرے عہدے کے متعلق آئینی درخواستیں عدالتِ عظمٰی نے سماعت کے لیے منظور کر لی ہیں۔ صدر کے صدارتی امیدوار ہونے کا باقاعدہ اعلان ہوتے ہی اس ضمن میں ان کی اہلیت کے بارے میں بھی رِٹ پٹیشن دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سرکاری وکلاء کو ایک کمزور مقدمہ لڑنا ہو گا۔
عدالتی فیصلے سے بچنے کا محفوظ ترین راستہ ایسی آئینی ترمیم ہے جس میں آٹھویں اور سترھویں آئینی ترامیم کی روایت کے تسلسل میں پرویز مشرف کو جُملہ آئینی رکاوٹوں سے ایک مرتبہ پھر ماورا قرار دے دیا جائے۔ ایسی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے جو پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس بارے میں حتمی فیصلوں میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ فضائے سیاست پر گہرے ہوتے بادلوں میں خوفناک گڑگڑاہٹ اور آئی ایس آئی کے سربراہ اشفاق کیانی کا لندن میں ورود اسی پیچیدہ صورتِ حال کا شاخسانہ ہیں۔ ملک کے داخلی اور بیرونی حالات اِس امر کی اجازت نہیں دیتے کہ اکتوبر 2002 کی طرح مہین نقاب کی اوٹ میں نیم پوشیدہ، دائیں بازو کے مذہبی عناصر کے ساتھ راہ و رسم جاری رکھی جائے۔ چنانچہ مرکزی دھارے کی اعتدال پسند سیاسی قوتوں سے رجوع کرنا پڑا۔ اس ضمن میں صدر مشرف کے پاس انتخاب کے لیے دو ہی قابلِ عمل راستے تھے۔کچھ روز قبل تک پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملات میں خاصی پیش رفت نظر آ رہی تھی۔ عدالتِ عظمٰی نے نواز شریف کی وطن واپسی پر کسی آئینی اور قانونی بندش نہ ہونے کا فیصلہ دے کر گویا سیاسی منظر کے خدوخال ہی بدل دیے ہیں۔ اپنی تازہ قانونی حیثیت اور بڑھتی ہوئی سیاسی قامت سے طاقت پا کر نواز شریف نے اپنے سیاسی موقف میں نرمی دکھانے سے گریز کیا ہے اگرچہ حکومت کی طرف سے اشارے ہوا کئے۔ اُن کا واضح اعلان ہے کہ وہ دس ستمبر کو اسلام آباد سے سڑک کے راستے گرد اُڑاتے اور سیاسی پانیوں میں تلاطم خیز لہریں اُٹھاتے لاہور پہنچیں گے۔اِس دفعہ شاید حکومت کے لیے وہ لائحہ عمل مفید ثابت نہ ہو جو 2004 میں شہباز شریف کی لاہور آمد پر اختیار کیا گیا تھا۔  | | |
متضاد پیش گوئیوں کے باوجود صدر مشرف اور پیپلز پارٹی میں سمجھوتہ طے پانے یا بات بگڑنے کے امکانات قریب قریب یکساں ہیں۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ نواز شریف کی سیاسی منظر پر نیپولین جیسی آمد سے پنجاب کی لوک داستان مرزا صاحباں کے لفظوں میں ’گلیاں ہی سنسان ہو جائیں‘۔ ملکہ بلقیس کا تخت رواں بھی ملکِ صبا میں اتر سکتا ہے مگر کسی کے یوسفِ بے کارواں ہو جانے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اقتدار کی چوٹی پر جو بھی صف بندی سامنے آئے، یہ بات یقینی ہے کہ فوج دستور میں دفعہ اٹھاون (دو) (بی) کے اختیار سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ اِس آئینی بوالعجبی کی موجودگی میں صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں علیحدگی کا ربع صدی پرانا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اِس کا تعلق پرویز مشرف، بینظیر یا نواز شریف کی ذات سے نہیں ہے کیونکہ یہ بحران محمد خان جونیجو، فاروق لغاری اور ظفراللہ جمالی جیسی شخصیات کے ساتھ بھی پیش آ چکا ہے جن پر ’ما را از ایں گیاہِ ضیف ایں گماں نبود‘ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ یہ ناگزیر بحران پارلیمانی جمہوریت کے ادارہ جاتی تقاضوں سے انحراف کا شاخسانہ ہے۔ پاکستانی ہیئت مقتدرہ کی محبوب اصطلاح ’صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن‘ پارلیمانی جمہوریت کے لیے مرگِ مفاجات کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاسی قیادت پر ماوائے دستور بالادستی کے اس خطرناک کھیل نے پاکستان کو سیاسی بحران کے دوراہے پر نہیں، لائل پور کے چوک گھنٹہ گھر میں کھڑا کر دیا ہے جہاں سے نکلنے والی آٹھ سڑکوں کے ہر پتھر پر پسِ پردہ بیٹھے ساحِروں کے پھیلائے ہوئے جال کے سایے طویل ہو رہے ہیں۔ |